BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 March, 2008, 15:10 GMT 20:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرینگر دھماکہ، ایک ہلاک

پچھلے چھہ ماہ سے سرینگر میں کوئی پرتشدد واقع نہیں ہوا تھا
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں ایک زور دار بارودی دھماکے میں ایک شخص ہلاک جبکہ ایک درجن سے زائد شہری زخمی ہوگئے ہیں۔


یہ دھماکہ بدھ کی شام سرینگر کے مصروف ترین مقام جہانگیر چوک کے قریب واقع فلائی اوور پر ہواہے۔ دھماکے میں چار سال قبل تعمیر کئے گئے واحد فلائی اوور کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔

پولیس کے مطابق بارودی سرنگ کو فلائی اوور کی اوبزرویشن پوسٹ میں نصب کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ جہانگیر چوک مصروف ہونے کے باوجود سیکورٹی اعتبار سے حساس ہے، کیونکہ وہاں سے صرف دو تین سو میٹر کے فاصلے پر حکومتی مرکز سِول سیکریٹیریٹ ، جموں کشمیر پولیس کا ہیڈکوارٹر، ریاستی ہائی کورٹ اور ضلع مجسٹریٹ کے علاوہ صوبائی انتظامیہ کا مرکزی دفتر بھی قائم ہے۔

ریاست کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کا کاروان کچھ دیر قبل اسی شاہراہ سے گزرا تھا۔ تاہم دھماکے کا ہدف واضح نہیں ہے اور کسی بھی عسکری گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

شہر کے پولیس چیف افہاد المجتبیٰ کے مطابق دھماکہ سے فلائی اوور کا ایک حصہ گر گیا اور ایک کار کو شدید نقصان پہنچا۔

 میں نے پندرہ سال کے کیرئیر میں اس قدر شدید دھماکہ نہیں سنا۔ مجھے صرف اتنا پتہ ہے کہ زوردار دھماکہ ہوا جس کے بعد میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا
فاروق احمد

جائے واردات پر موجود ٹریفک بوتھ پر دھماکے کے وقت ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار فاروق احمد اور نذیر احمد بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔

فاروق کا کہنا ہے’میں نے پندرہ سال کے کیریئر میں اس قدر شدید دھماکہ نہیں سنا۔ مجھے صرف اتنا پتہ ہے کہ زوردار دھماکہ ہوا جس سے میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاگیا‘۔

جہانگیر چوک میں پچھلے سولہ سال سے میوہ بیچنے والے علی محمد نے، جو واقعہ میں زخمی ہونے کے بعد سرینگر کے صدر ہسپتال میں زیرعلاج ہیں، بتایا کہ دھماکہ سے جو دھواں اور غبار اُٹھا وہ پورے بازار میں پھیل گیا۔

چوک میں قائم چھہ منزلہ ہوٹل جہانگیر کے متعدد شیشے چکنا چور ہوگئے۔ شاہراہ پر تین گھنٹے تک ٹریفک متاثر رہی۔

پولیس نے اس موقع پر پورے علاقے کو سِیل کر دیا اور ایک مشکوک نوجوان کو حراست میں لے لیا، جس پر وہاں موجود خواتین نے احتجاج کیا۔

پولیس نے دھماکے کے فوراً بعد لال چوک مائسوما کے اویس احمد نامی نوجوان کو گرفتار کر لیا، جس پر مقامی خواتین نے احتجاج کیا۔

قابل ذکر ہے کہ چند سال قبل شہر میں متواتر حملوں کے بعد جہانگیر چوک سمیت تمام مصروف بازاروں میں خفیہ کیمرے نصب کئے گئے تھے۔ ایک مقامی پولیس افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا’ویڈیو فوٹیج کی جانچ ہورہی ہے‘۔

بعض عینی شاہدین کا کہناہے کہ فلائی اوور پر نیم فوجی عملہ تعینات رہتا ہے، لیکن دھماکے کے وقت وہاں کوئی نہیں تھا۔ اس حوالے سے سی آر پی ایف کے ترجمان سُدھانشو سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ’ڈیوٹی تو چوبیس گھنٹے نہیں رہتی ہے۔ پارٹی تھوڑی دیر پہلے شفٹ ختم کرکے نکلی تھی۔ لگتا ہے کہ شدت پسند موقعہ کی تلاش میں تھے اور اُس وقت حملہ کیا جب وہاں کوئی ڈیوٹی پر مامور نہ تھا‘۔

واضح رہے کہ دوردراز دیہات میں جنگجوؤں اور فوج و نیم فوجی دستوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ برابر جاری ہے لیکن پچھلے چھہ ماہ سے سرینگر میں کوئی پرتشدد واقع نہیں ہوا تھا۔

یہ دھماکہ شمالی کشمیر کے سوپور علاقہ میں ہوئی ایک خونریز جھڑپ کے دو دن بعد ہوا، جس میں لشکر طیبہ کا ایک کمانڈر اور ایک فوجی لیفٹنٹ کرنل ہلاک ہوگئے تھے۔

کشمیرزندگی ہی بدل گئی
کشمیر میں زندگی کے رنگ پھیکے پڑ گئے
کشمیر مذاکرات
130 بار مذاکرات ہوئے، کیا ملا: سید علی گیلانی
اسی بارے میں
کشمیر: میجر سمیت چھ ہلاک
09 November, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد