BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 November, 2007, 09:09 GMT 14:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: میجر سمیت چھ ہلاک

کشمیرمیں جھڑپ
پٹن میں بھارتی فوج کے جوان شدت پسندوں کے خلاف کا رروائی کرتے ہوئے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں حکام کے مطابق شمالی قصبے پٹن اور سوپور میں مسلح جنگجوؤں اور فوج کے مابین چار روز سے جاری تصادم میں دو شدت پسنداور ایک میجر سمیت چار فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

اس واقعے میں نیم فوجی دستے کے دو جوان اور مقامی پولیس کے دو کمانڈو زخمی بھی ہوئے ہیں۔

شمالی رینج کے ڈپٹی انسپکڑ جنرل ڈاکٹر بی سی نِواسن نے بی بی سی کوبتایا: ’ہم دونوں جگہوں پر ملی ٹینٹز کے خلاف آپریشن کررہے ہیں، سوپور میں پانچ سو افراد کو اینکاؤنٹر کی جگہ سے صحیح سلامت باہر نکالا گیا ہے اور صبح سے ہوٹل میں چھپے جنگجوؤں کے خلاف خصوصی کمانڈوز چڑھائی کر رہے ہیں۔‘

آپریشن کے دوران پٹن میں دس رہائشی مکان خاکستر ہوگئے ہیں جبکہ سوپور کے ہوٹل میں چھپے ہوئے مسلح جنگجوؤں کے خلاف آپریشن ابھی بھی جاری ہے۔ ان جھڑپوں کی وجہ سے پٹن اور سوپور میں دو سو مربع کلومیٹر علاقے پر مشتمل بستیاں متاثر ہوئی ہیں۔

 ’ ہم دونوں جگہوں پر ملی ٹینٹز کے خلاف آپریشن کررہے ہیں، سوپور میں پانچ سو افراد کو اینکاؤنٹر کی جگہ سے صحیح سلامت باہر نکالا گیا ہے اور صبح سے ہوٹل میں چھپے جنگجوؤں کے خلاف خصوصی کمانڈوز چڑھائی کررہے ہیں۔‘
ڈپٹی انسپکڑ جنرل ڈاکٹر بی سی نِواسن

پٹن میں وسیع علاقے کا محاصرہ کیا گیا ہے جہاں خانہ تلاشی کا عمل جاری ہے۔ اس کے خلاف مقامی لوگوں نے سرینگر مظفرآباد شاہراہ پر دھرنا بھی دیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق منگل کی شام سے چھ یا آٹھ مسلح عسکریت پسند ؤں کا ایک گروپ پٹن کے سعیدہ پورہ میں پناہ گزیں تھا۔

پولیس کے مطابق ’اطلاع ملنے پر بھارتی فوج کے راشٹریہ رائفلز اور کشمیر پولیس کے خصوصی دستوں پر مشتمل ایک مشترکہ ٹکڑی نے سعیدہ محلے کا محاصرہ کرلیا، وہاں چھپے جنگجوؤں نے فوج پر فائرنگ کی اور اس طرح جھڑپ شروع ہوئي، اس میں اب تک لشکر طیبہ کے دو جنگجو مارے جا چکے ہیں۔‘

باقی جنگجوؤں کے بارے میں فوج یا پولیس نے ابھی تک کوئی بیان نہیں دیا ہے، تاہم پٹن کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے’ جھڑپ اسی لیے طویل ہوگئی کیونکہ ملی ٹینٹ فرار ہوگئے ہیں اور فوج اس شک میں ان کا تعاقب کررہی ہے کہ کہ فرار ہوئے شدت پسند سعیدہ محلے یا اس سے ملحقہ بستیوں میں چھپے ہوں گے۔‘

اُدھر سوپور جھڑپ کے بارے میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شام کو فوجی وردی میں ملبوس دو مسلح جنگجوؤں نے سی آر پی ایف کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ کی تھی اور جوابی کاروائی کے بعد دونوں نزدیکی ہوٹل میں چھپ گئے تھے۔

جھڑپ سے تباہی کا منظر
چار روز سے جاری جھڑپ سے تقربیا دو سو مربع کلومیٹر کا علاقہ متاثر ہوا ہے
پولیس نے حملہ آور جنگجو کی تعداد کے متعلق ابھی تک کچھ بھی نہیں بتایا ہے لیکن ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ہوٹل میں محصور جنگجوؤں کی تعداد چار بتائی ہے۔

سی آر پی ایف اور پولیس نے ہوٹل کا محاصرہ کر کے فوج سے مدد طلب کی تھی اور دیر رات تک دونوں طرف سے گولیوں کو شدید تبادلہ ہوتا رہا۔ جمعہ کی صبح ریاستی پولیس کے خصوصی دستے ٹاسک فورس کمانڈوز کو طلب کیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کمانڈوز نے ہوٹل کے اندر جانے کی کوشش کی تو وہاں چھپے جنگجوؤں نے گولیوں کی بارش کردی جس سے دو کمانڈوز زخمی ہوگئے۔

آپریشن کے بارے میں ڈی آئی جی سری نواسن کا کہنا ہے ’ملی ٹینٹ ابھی بھی وقفہ وقفہ سے فائرنگ کررہے ہیں تاہم آپریشن جاری ہے۔‘ سوپور جھڑپ میں ابھی تک سی آر پی ایف کے دو جوان اور جموں کشمیر پولیس کے خصوصی کمانڈو دستے کے دو اہلکار زخمی ہوچکے ہیں۔

لشکر طیبہ کے ترجمان عبداللہ غزنوی نے جمعرات کی شام کو فون کرکے بتایا’ ہمارے چار مجاہدین ہوٹل میں موجود ہیں جو لڑرہے ہیں۔‘ انہوں نے سوپور جھڑپ میں چھہ فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ۔

تین روزہ سیز فائر
جہاد کونسل کے اعلان کا ممکنہ ردعمل کیا؟
غلام نبی آزاد کانگریس اور کشمیر
ملازمتیں لیکن کشمیریوں اور مسلمانوں کیلیے نہیں
کشمیر میں دسہرہ کا تہوار رام نومی کا تہوار
انڈین کشمیر میں 20 سال بعد دسہرہ کا تہوار
اسی بارے میں
آٹھ فوجی،سات جنگجوہلاک
11 October, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد