کشمیر:شراب نوشی میں نمایاں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں جہاں پرتشدد کارروائیوں میں کمی آئی ہے وہاں شراب نوشی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسی کی دہائی میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسند جنگجوؤں کے کہنے پر سب سے پہلے سینما گھر اور شراب خانے بند ہوئے تھے لیکن اب شراب کے بیوپاریوں نے یہ کاروبار دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ ڈھائی سال قبل کشمیر وادی کی سب سے پہلی شراب کی دکان ڈل جھیل کے ساتھ شاہراہ پر کھلی تھی اور پچھلے ماہ اننت ناگ کے ایک ضلع میں شراب کی پانچویں دکان کھل گئی ہے۔ پہلی دکان کھلنے پر خواتین کی انجمن دخترانِ ملت نے اس پر دھاوا بولا لیکن اس دھاوے سے اس دکان کے کاروبار پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ کشمیر وادی میں اپریل دو ہزار سات اور فروری دو ہزار آٹھ کے عرصے میں بھارتی، غیر ملکی شراب اور بیئر کی بارہ لاکھ بوتلیں فروخت ہوئیں۔ محکمہ ایکسائز کےڈپٹی کمشنر پیر نظام الدین کا کہنا ہے کہ ان کو شراب خانے کھولنے کی مزید درخواستیں موصول ہو رہی ہیں۔ وادی میں شراب کی دکانوں کے باہر لوگوں کی لمببی قطاریں نظر آئیں لیکن دکان کے مالک اور دیگر افراد بشمول قطاروں میں کھڑے گاہکوں نے تصویر لینے کی اجازت نہیں دی۔ کشمیر میں روایتی طور پر شراب کی خریدوفروخت غیر مسلموں کے ہاتھ میں رہی لیکن پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے ان میں سے کافی لوگ وادی چھوڑ کر چلے گئے اور اب شراب کی دکانیں دوبارہ کھلنے پر ان کے مالکان مسلمان ہیں۔ شراب کی دکان پر کام کرنے والے مسلمان کا کہنا تھا ’شراب کی دکان چلانا بڑی ہمت کی بات ہے‘۔ مسلمان ہونے کے ناطے کشمیری ہمیشہ ہی سے شراب کی خرید و فروخت کو اچھا نہیں سمجھتے۔ مقامی رہائشی گلزار احمد کا کہنا تھا ’شراب خریدنے والے تقریباً تمام گاہک کشمیری ہیں‘۔
ڈل جھیل میں کشتی چلانے والے شبیر احمد نے کہا ’اب تو ان شراب کی دکانوں پر سکول کے بچے بھی جانا شروع ہوگئے ہیں۔ یہ بالکل اچھا نہیں ہو رہا‘۔ماہر نفسیات ڈاکٹر ارشد کا کہنا ہے کہ آسانی سے مہیا شراب سے معاشرہ شراب کی لت میں مبتلا ہو جائے گا اور اس کی بڑی وجہ شہری زندگی کے دباؤ اور بڑھتی ہوئی مادیت پرستی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو سال قبل کیے گئے سروے میں اٹھارہ اور پینتیس سال کے افراد کی سترہ فیصد نے افیون کا استعمال کیا ہے اور اس قسم کے لوگ با آسانی شراب نوشی کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔ ’یہ افراد بغیر ہچکچاہٹ اور پولیس کے خوف کے دکان سے شراب خرید سکتے ہیں اور یہ بڑی مقدار میں شراب نوشی کا سبب بنے گا۔‘ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے لیے شراب خانے کھولنے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ اس امر کو تقویت دیتا ہے کہ حالات معمول پر آ رہے ہیں اور دوسرا یہ کہ اس سے سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ تاہم کشتی مالکان ایسوسی ایشن کے ترجمان طارق احمد کا کہنا ہے کہ سیاحت شراب کے بغیر بھی فروغ پا سکتی ہے۔ ’ہم سیاحوں کو کہتے تھے کہ شراب پر پابندی ہے تو وہ اس پر خفا نہیں ہوتے تھے۔ وہ کشمیر کی خوبصورتی دیکھنے آتے ہیں نہ کہ شراب پینے‘۔ |
اسی بارے میں میرے بھیا کا پتہ دے دو: بچی کی اپیل30 August, 2007 | آس پاس امرناتھ یاترا سے پہلے حملوں میں تیزی29 June, 2007 | آس پاس کشمیر پر استصواب رائے مسترد26 May, 2007 | آس پاس تین سال بعد لائن آف کنٹرول پر جھڑپ17 January, 2007 | آس پاس حزب کمانڈراورایک میجر ہلاک28 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||