BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تین سال بعد لائن آف کنٹرول پر جھڑپ
ایل او سی پر 2003 سے قبل جھڑپیں معمول کی بات تھیں
کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کی مسلح افواج میں تین سال کی فائر بندی کے بعد بدھ کو فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں بھارتی سکیورٹی حکام کے مطابق اس کے دو اہلکار زخمی ہو گئے ہیں جبکہ پاکستانی حکام نے بھارتی سکیورٹی فورس پر یک طرفہ فائرنگ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ لائن آف کنٹرول پرتین سال بعد ہونےوالی اس جھڑپ میں اس کے دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئِے ہیں۔

بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس کے ایک ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی مسلح افواج کچھ شدت پسندوں کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہونے میں مدد کرنے کے لیے فائرنگ کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے فائرنگ کے جواب میں بھارتی سکیورٹی فورسز نے بھی فائرنگ کی۔

مگر پاکستانی فوج کے ترجمان نے کنٹرول لائن پر مسلح جھڑپ سے متعلق بھارت کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے اُسے بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا ہے کہ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے سے جاری ہونے والے بیان میں ترجمان کے مطابق سترہ جنوری کی صبح سوا دو بجے بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے گاؤں نجوال کے شمال میں واقع بارڈر سکیورٹی فورس یعنی ’بی ایس ایف‘ کے اہلکاروں نے فائرنگ کی جو سوا تین بجے تک جاری رہی۔

ترجمان کے مطابق نجوال پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کے علاقے پکھلیاں کے گاؤں رامپورہ کے سامنے واقع ہے اور پاکستان رینجرز نے ’ایک گولی بھی نہیں چلائی۔‘

صبح جب پاکستان رینجرز نے بھارتی فورس سے فائرنگ کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں رات کو سرحد کے قریب نقل حمل کا شبہہ ہوا تو اس پر فائرنگ کی گئی۔

ترجمان کے مطابق پاکستان رینجرز نے بھارت سے فوجی کمانڈروں کی سطح پر اس واقعہ کے بارے میں ملاقات کرنے کا بھی کہا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارتی فورس نے سرحد پر فائرنگ کی ہو بلکہ ماضی میں بھی ایسے چند واقعات رونما ہوئے ہیں اور پاکستان بھارتی حکام سے یہ معاملہ اٹھا چکا ہے۔

بھارت اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان کشمیر میں سن دو ہزار تین میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد کوئی مسلح جھڑپ نہیں ہوئی تھی۔

اسی بارے میں
کشمیریوں کامحتاط ردعمل
23 October, 2003 | صفحۂ اول
ایل او سی پر امن رہا
26 November, 2003 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد