BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 October, 2003, 14:42 GMT 19:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیریوں کامحتاط ردعمل

کشمیری رہنما
اے پی ایچ سی دو دھڑوں میں منقسم ہوگیا ہے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی پسند سیاسی جماعتوں کے اتحاد آل پارٹیزحریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) نے بھارتی حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر ملے جلے مگر محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

مولوی عباس انصاری کی قیادت میں علیحدہ ہونے والے اے پی ایچ سی کے ایک دھڑے کا کہنا ہے کہ وہ ہر ایک سے، ہر وقت اور ہر جگہ بات کرنے کو تیار ہیں۔

اے پی ایچ سی کے اس دھڑے کے ایک رہنما عبدالغنی بھٹ نے اتحاد کے مرکزی مجلس عاملہ (ایگزیکیٹو کونسل) کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ اتحاد اس سلسلے میں اندرونی اور بیرونی طور پر وسیع بنیادوں پر مشاورت کرے گا۔

انہوں نے کہا ’مذاکرات اکڑ سے بہتر ہوتے ہیں۔ لیکن مذاکرات کس لئے؟ مسئلے کے حل کے لئے۔ یی اے پی ایچ سی کا بنیادی سوال ہے۔ جہاں تک مذاکرات کی پیشکش کا تعلق ہے، اے پی ایچ سی کی ایگزیکیٹو کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔‘

عبدالغنی بھٹ نے کہا کہ اس سلسلے میں نہ صرف اتحاد میں شامل جماعتوں اور تنظیم کے اند اور باہر کے لوگوں سےمشاورت کی جائے گی، بلکہ عوام سے بھی رائے لی جائے گی۔

تاہم سید علی شاہ گیلانی کی قیادت میں اے پی ایچ سی کے مخالف دھڑے نے مذاکرات کی یہ پیشکش یہ کہتے ہوئے رد کردی ہے کہ پاکستان کی شمولیت کے بغیر محض دوطرفہ مذاکرات ایک بے مقصد مشق ہوگی۔

کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف برسرپیکار مسلح گروہوں نے بھی اس پیشکش کو چالبازی قرار دیتے ہوئے رد کردیا ہے۔

حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کا کہنا ہے کہ تیسرے فریق کو نظرانداز کرتے ہوئے محض دو فریق اگر مذاکرات کریں گے تو یہ صرف تاخیری حربہ ہی ہوگا، مسئلے کا حل نہیں۔

شدت پسند تنظیم جمیعت المجاہدین کا کہنا ہے بھارت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا مقصد بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ سے انحراف کی کوشش ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ بھارت چاہتا ہے کہ مولوی عباس انصاری کی زیر قیادت اے پی ایچ سی کے دھڑے سے کسی قسم کا سمجھوتہ کرلے تاکہ وادی میں جاری مسلح جدوجہد کو زک پہنچائی جاسکے۔

دیگر تنظیموں نے، جن میں فرزندان ملت وغیرہ شامل ہیں، اے پی ایچ سی کے رہنماوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ (بقول ان کے) بھارت کے بچھائے گئے اس جال میں قدم نہ رکھیں۔ ان تنظیموں سے اے پی ایچ سی کو مشورہ دیا کہ اس سلسلے میں کسی فیصلے سے قبل شدت پسند تنظیموں سے مشاورت کرلی جائے۔

خواتین کی سب سے بڑی علیحدگی پسند تنظیم دختران ملت نے بھی مذاکرات کی یہ پیشکش چال قرار دیتے ہوئے مسترد کردی ہے۔

تاہم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے مذاکرات کے بارے ایک پراسرار خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ فرنٹ خود کو اے پی ایچ سی کے دونوں دھڑوں سے علیحدہ قرار دیتا رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد