ایل او سی پر امن رہا  | | کشمیر: ایل او سی پر روز ہی گولہ باری ہوتی رہی ہے | |
کشمیر میں سرحد کے دونوں طرف کے حکام کا کہنا ہے فائربندی کے پہلے روز ایل او سی پر مکمل امن رہا۔ بھارت کی طرف سے ایل او سی پر فائربندی کی پاکستانی پیشکش کو تسلیم کئے جانے کے بعد گزشتہ روز درمیانی شب کو گولہ باری بند ہوگئی۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی برس سے تقریباً ہر روز فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر سرحد کے قریبی علاقوں میں رہنے والوں پر ہوتا ہے۔ سرحد پر تعینات دونوں ممالک کی افواج نے عید کے دن آپس میں مٹھائیاں بھی یقسیم کیں۔ کنٹرول لائن کے دونوں طرف آباد دیہات میں لوگوں نے اس پیش رفت پر چین کا سانس لیا ہے۔ بھارتی علاقے میں ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کئی سال کے بعد پہلی بار ہم باہر دھوپ میں بیٹھے اور فائرنگ کا کوئی ڈر نہیں تھا۔‘  | | گولہ باری سے عام لوگ متاثر | |
دوسری طرف حریت کانفرنس کے باغی گروہ کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی تب تک بے معنی ہے جب تک کہ بنیادی مسئلے کو حل نہیں کیا جاتا۔ پاکستان کے وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے اتوار کو قوم سے خطاب میں ایل او سی پر فائربندی کا اعلان کیا تھا۔ بھارت نےاگلے روز اس پیشکش کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کوشش کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے سیاچن پر بھی جنگ بندی کی پیش کش کر رہا ہے۔ |