غیر کشمیریوں سےشادی کی سزا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِ انتظام ریاست جموں اور کشمیر کی اسمبلی نے ہفتے کے روز مستقل رہائش والا وہ بل اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا ہے جس کے تحت اگر وہاں کی کوئی عورت کسی غیر کشمیری سے شادی کر لے تو پھر ریاست کی مستقل رہائش اور دیگر حقوق اور مراعات سے محروم ہو جائےگی۔ جموں سے نامہ نگار بینو جوشی نے بتایا ہے کہ بھارتی آئین کی دفعہ تین سو ستر کے تحت ریاست جموں اور کشمیر کوخصوصی درجہ حاصل ہے۔ بھارتی حکومت کے بقول اس خصوصی درجے کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ صرف وہی لوگ یہاں زمین و جائیداد رکھ سکتے ہیں، سرکاری نوکریاں حاصل کر سکتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم اور ووٹ کا حق رکھتے ہیں جو ریاست کے مستقل شہری ہیں۔ تاہم اکتوبر سن دو ہزار دو میں ریاستی ہائی کورٹ نے یہ کہا تھا کہ اگر ریاست کی کوئی لڑکی کسی غیر کشمیری سے شادی کرتی ہے تو وہ حقوق جو اسے بحیثیت ایک کشمیری کے حاصل ہیں، برقرار رہنے چاہئیں چہ جائے کہ غیر کشمیری سے شادی کے نتیجے میں اسے ان حقوق سے محروم کر دیا جائے۔ لیکن جعمہ کے روز ریاستی وزیرِ اعلٰی مفتی محمد سعید کی مخلوط حکمراں جماعت نے ایک ایسا قانون منظور کیا ہے جو ہائی کورٹ کی رائے کے منافی ہے۔ نئے قانون کے مطابق اگر کوئی کشمیری عورت، کسی غیر کشمیری سے شادی کرتی ہے تو نہ وہ سرکاری نوکری حاصل کرنے کی حقدار ٹھہرے گی اور نہ زمین و جائیداد کا حقِ ملکیت رکھ سکے گی۔ غیر کشمیری سے شادی کی صورت میں لڑکی کے کچھ دیگر حقوق بھی سلب ہو جائیں گے۔ نئے قانون کی منظوری پر ریاست کی خواتین نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ قانونی کی منظوری سے در اصل عورتوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ ریاست کے باہرکسی سے شادی نہ کریں ورنہ انہیں نقصان ہوگا۔ بینو جوشی نے خواتین کا ردِ عمل جاننے کے لئے کچھ عورتوں سے بات بھی کی جن کا کہنا تھا کہ نیا قانون عورتوں کو یہ احساس دلانے کے لئے بنا ہے کہ ان کا طبقہ دوسرے درجے کا شہری ہے۔ خواتین کا کہنا تھا کہ نیا قانون نہ صرف امتیازی ہے بلکہ انسانی حقوق کی پامالی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ خواتین یہ بھی کہتی ہیں کہ اس قانون سے عورتوں کی ترقی میں رکاوٹ پڑے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مردوں کو غیرکشمیری سے شادی کرنے کے باوجود ریاستی حقوق حاصل ہیں تو عورتوں پر قدغن کیوں لگائی جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کا اس کی وجہ یہ کہ عورتوں کو غیرکشمیری سے شادی کرنے کے بعد حقوق دینے سے ریاست کا خصوصی درجہ کمزور پڑ جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||