کشمیر: ایک بدلتی تصویر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلگام میں اگر بھاری تعداد میں لوگ ووٹ دینے نکلیں تو اس میں کوئی حیرانگی نہیں کیونکہ انتخابی امیدوار اور وزیراعلیٰ مفتی محمد سید نے یہاں اپنی حکومت کی ساری توجہ مرکوز کی اور سیاحت سے جڑے ہزاروں لوگوں کے لیے روزگار کے نئے سامان پیدا کیے۔ اس سال تقریبا تین لاکھ سیاح وادی کے دورے پر آئے جن میں بیشتر پہلگام کی سیر کو گئے - حکومت نے خاص طور پر سیاحتی مرکزوں پہلگام، گلمرگ اور دودھ پتھر کو سیاحتی اعتبار سے کافی سجایا اور ہر طرح کی سہولیات میسر رکھی ہیں۔ " کئی برسوں کے بعد ہماری مسکراہٹ واپس آئی ۔ ہماری اچھی خاصی آمدنی ہوئی ۔ روزگار اپنی جگہ لیکن ہم اپنے بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں" میں نے گزشتہ بارہ برسوں میں پہلی بار وادی میں ایک مثبت تبدیلی محسوس کی۔ اس بات کا ضرور احساس ہوتا ہے کہ زندگی دوبارہ رواں دواں ہے اور ریاستی بجٹ کا کچھ حصہ ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونے لگا ہے بیشتر دھول اڑاتی سڑکوں پر اب میکڑم چڑھا ہے آئے دن قومی اور بین القوامی سطح پر سیمنار کانفرنسیں اور میلے کروائے جارہے ہیں۔ مفتی سرکار کی شاید ایک ہی بات یہاں کے باشندوں کو پسند آئی ہے کہ اس نے مسئلہ کشمیر کا حل بھارت پاکستان اور علحیدگی پسند جماعتوں کے زمرے میں ڈالا ہے جبکہ اسکی ساری توجہ ریاست میں ترقیاتی کام اور گڈ گورننس پر مرکوز ہے۔ گوکہ زندگی کا کاروبار کچھ معمول پر آ گیا ہے لیکن بقول ایک تجزیہ نگار کے " مفتی سرکار معمول کے حالات بحال ہونے کا سارا سہرا خود لینا چاہتی ہے وہ صرف انتظامیہ چلاتی ہے اصل کام پاکستان نے کیا جس نے شدت پسندوں کو لگام دی اور درآندازوں کو روک دیا حالات خود بخود ٹھیک ہوگۓ اب بھی کچھ شدت پسند وادی میں موجود ہیں جو بار بار اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں" چند ہفتے پہلے ہی جھیل ڈل میں ایک خود کش حملہ ہوا جس سے سیاحوں میں خوف وہراس پھیل گیا اور بیشتر وہاں سے بھاگ گۓ۔ "کاروبار اچھا چل رہا تھا لیکن خود کش حملے نے ہمارے ہوش اڑادیے، سیاح بھاگ گۓ، تشدد کم ہوا تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت اور پاکستان آپس میں دوستی کرکے مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالیں گے کشمیر ہمارا مسئلہ ہے اور ہم نے اس مسئلہ کے حل کے لیے اپنی جانیں دی ہیں ۔مفتی کا کام ہے حکومت چلایں نہ کہ ہم سے ہمارہ حق چھنیں" ڈل میں رہنے والے محمد سلطان نے جذباتی انداز میں کہا۔ ان کی بات سے مجھے بخشی دور کی ایک یاد تازہ ہوگی جب حکومت بھارت نے بخشی کے کہنے پر وادی کے لوگوں میں بانٹنے کے لیے روپیوں سے بھرے جہاز بھیجے اس امید پر کہ مقامی لوگ پیسے کو دیکھ کر رائے شماری کے مطالبے کو بھول جائینگے کچھ وقت کے لیے حالات بہتر ہوگئے لیکن دو دہائی کے بعد تحریک آزادی نے ایسا سر ابھارا کہ نہ صرف بھارت پاکستان کی بلکہ جنوبی ایشیا کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی اور پر تشدد تحریک پر قابو پانا انتہائی مشکل ہوگیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||