BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 August, 2007, 21:22 GMT 02:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میرے بھیا کا پتہ دے دو: بچی کی اپیل

لاپتہ افراد کے عالمی دن کے حوالے سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی مختلف تقریبات ہوئیں
لاپتہ افراد کی یاد میں منائے جارہے عالمی دن کے موقع پر ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں بھی حراست کے بعد لاپتہ ہو جانے والے افراد کے اقرباء نے تقریبات کا اہتمام کیا۔

سرینگر کے شیر کشمیر پارک میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم ’ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈِس اپیئرڑ پرسنز‘ یا اے پی ڈی پی نے ایک تصویری نمائش منعقد کی۔اس کے علاوہ متاثرہ لواحقین نے ایک مقامی ہوٹل میں سیمینار کے دوران عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ ان کی دادرسی کریں۔

شیرکشمیر پارک میں پچہتر سالہ حاجی غلام نبی نقشبندی جذباتی ہوگئے اور اپنے پوتے وقار احمد نقشبندی کو مبینہ طور پر ’لاپتہ کرنے والوں‘ کو بددعا دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’اسی ہزار سال تک تم لوگ تڑپتے رہو،اسی درد میں مبتلا رہو، جس میں ہم لوگ ہیں۔‘

اس دوران اے پی ڈی پی کی طرف سے ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں لاپتہ افراد کےننھے اقرباء نے اپنی روداد سنائی۔

ایک بارہ سالہ لڑکی مہوِش نبی ڈار نے روتے روتے اپنے بھائی کی گمشدگی کا ذکر کرکے محفل کو مغموم کردیا۔ مہوِش کا کہنا تھا کہ جب فورسز نے ان کے نوجوان بھائی کو گرفتار کرلیا تو وہ اُسوقت بہت چھوٹی تھیں۔ ’میں تو اسے پہچان بھی نہ پاتی اگر تصویر نہ ہوتی۔ تصویر دیکھتی ہوں تو روپڑتی ہوں۔‘

بھائی کی تصویر دیکھ کر روتی ہوں
 جب میرے نوجوان بھائی کو گرفتار کیا گیا تو اُسوقت میں بہت چھوٹی تھی۔ میں تو اسے پہچان بھی نہ پاتی اگر اس کی تصویر نہ ہوتی۔ تصویر دیکھتی ہوں تو روپڑتی ہوں
گمشدہ بھائی کی چھوٹی بہن

مہوش نے کسی ادارہ یا حکومت کا نام لیے بغیر کہا کہ ، ’ہماری آواز سنو، مجھے میرے بھیا کا پتہ دے دو۔‘

انسانی حقوق تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں آٹھ سے دس ہزار افراد کو فورسز نے حراست میں جبری طور لاپتہ کیا ۔ تاہم سرکاری طور اس کی تردید کی جاتی ہے۔

سِول سوسائیٹی کی انجموں کے اتحاد کے سربراہ پرویز امروز نے سیمینار میں بتایا کہ لاپتہ افراد کی صحیح تعداد کا پتہ لگانا اس وقت تک تک مشکل ہے جب تک غیر جانبدار عالمی اداروں کو کشمیر میں سروے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

مسٹر امروز کا کہنا تھا کہ ’دسمبر دو ہزار چھہ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق اقوام متحدہ کے ایک چارٹر پر بھارت سمیت تین ایشیائی ممالک نے دستخط کئے، لیکن پھر بھی حکومت ہند غیر ملکی ایجنسیوں کو اس بارے میں مشاہدے کی اجازت نہیں دے رہی۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد