BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 March, 2008, 14:42 GMT 19:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خون کو کیسے نہیں پہچانیں گے‘

کشمیر سنگھ
کشمیر سنگھ کی رہائی صدر مشرف کی طرف سے معافی کے بعد ممکن ہوئی
اپنی عمر کے 35 برس اپنے چہیتوں سے دور، دوسرے وطن میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے کے بعد کشمیر سنگھ نےمنگل کی دوپہر ایک بجے اپنے وطن کی زمین پر قدم رکھا۔

کشیمر سنگھ کی رہائی کے ساتھ انکی اہلیہ پرمجیت کور اور ان کے بچوں کی بھی ایک طرح سے ’رہائی‘ ہوگئی جو 35 برس کے انتظار کے ہاتھوں قیدی ہوگئے تھے۔

کشمیر سنگھ کو جب 1973 میں راولپنڈی کی پولیس نے ہندوستانی حکومت کی جانب سے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تو ان کی عمر محض 26 برس تھی۔

کشمیر ایک بار جب گرفتار ہوگئے تو ان کے خاندان والوں کی جانب سے تمام کوششوں کے بعد بھی ان کی رہائی ممکن نہ ہوسکی تھی۔

لیکن پاکستان حکومت کی طرف سے کشمیر سنگھ کی رہائی کے حکم کے بعد واہگہ سرحد پر ان کی آمد کے وقت سرحد کے اس طرف جو ہندوستان کی سر زمین ہے وہا ں ایک عجب سماں تھا۔

صبح سے ہی کشمیر سنگھ کے دوست اور رشتہ دار پھولوں کے گلدستے اور ہاتھ میں کشمیر سنگھ اور اپنی بعض پرانی تصاویر لیے سرحد کی دوسری جانب آنکھیں لگائے کھڑے تھے کہ کب کشمیر سنگھ ہندوستان کی سرزمین پر قدم رکھیں اور کب انتظار ان کا پیچھا چھوڑے۔

خوب باتیں کروں گی
 مجھے بہت خوشی ہے کہ وہ واپس آرہے ہیں۔ ملنے کے بعد ان کی صحت کے بارے میں پوچھوں گی اور ان سے خوب باتیں کروں گي۔
پرمیجت کور

کشمیر سنگھ کا استقبال کرنے ان کی اہلیہ پرمجیت کور کے علاوہ ان کے بیٹے شیش پال سنگھ بھی واہگہ سرحد پر موجود تھے۔

پرمجیت کی آنکھوں میں چمک تھی وہیں اتنے برس بعد اپنے خاوند سے ملنے پر تھوڑی سی جھجک بھی دکھائی دے رہی تھی۔

مجھے بہت خوشی ہے کہ وہ واپس آرہے ہیں۔ ملنے کے بعد ان کی صحت کے بارے میں پوچھوں گی اور ان سے خوب باتیں کروں گي.‘

پرمجیت کور نے یہ الفاظ کشمیر سنگھ کی آمد سے چند لمحات پہلے کہے تھے اور ان کی آمد کے بعد صرف خوشی سے ہاتھ اٹھا رہی تھیں۔

کشمیر سنگھ کے بیٹے شیش پال سنگھ سے پوچھا گیا کہ جب ان کے والد گئے تھے تو ان کی عمر چار برس تھی تو کیا ان کے والد انہیں پہچان پائیں گے تو شیش پال کا کہنا تھا ’ہمارا خون تو ایک ہی ہے نا۔ کیوں نہیں پہچانیں گے۔ میں تو انہیں پہچان جاؤں گا اور وہ بھی ضرور پہچانیں گے۔‘

کشمیر سنگھ کو الوداع کہنے کے لیے پاکستان کے نگراں وزیر برائے انسانی حقوق انصار برنی اور پاکستانی اہلکاروں کا ایک بڑا وفد سرحد پر موجود تھا۔

گرفتاری کے وقت کشمیر سنگھ کی عمر 26 برس تھی لیکن آج وہ عمر کے 60 برس سے زیادہ گزار چکے ہیں۔ کبھی پگڑی پہننے والے کشمیر سنگھ آج آسمانی پینٹ اور شرٹ پہنے ہوئے تھے۔

کشمیر سنگھ نے پاکستان کی سرحد کی جانب کھڑے ہوئے اہلکاروں اور شہریوں کو آخری بار ہاتھ ہلا کر الوداع کہا۔

سرحد پر موجود ہندوستانی اہلکار انہیں بارڈر سکیورٹی فورسز کے دفتر لے گئے جہاں ان کا طبی معائنہ ہوا اور اس کے بعد انہوں نے اپنی اہلیہ، بیٹے اوردوستوں سے ملاقات کی۔

خاندان والوں سے ملنے کے بعد کشمیر سنگھ ہاتھ ہلاتے ہوئے میڈیا کے سامنے پیش ہوئے۔ ایک بڑی تعداد میں میڈیا اور اپنے رشتے داروں کی بھیڑ دیکھ کر کشمیر سنگھ تھوڑے تعجب میں دکھائی دے رہے تھے انہوں نے میڈیا سے بات تو نہیں کی لیکن ان کی آنکھوں میں آنسو ضرور تھے۔

کشمیر سنگھ کی رہائی سے ان کے گاؤں والوں اور اہل خانہ کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں ہے۔ ان کے گاؤں کے سرپنچ بلونت سنگھ کا کہنا ہے کہ کشمیر سنگھ کی رہائی کی خوشی میں پورا گاؤں سجا ہوا ہے۔ ان کے استقبال میں ایک خاص پروگرام کا اہتمام کیا گیا ہے۔

امید کی کرن
 کشمیر سنگھ کی رہائی کو جہاں ہندوستان اور پاکستان کے بہتر ہوتے رشتوں کی ایک کڑی مانا جارہا ہے وہیں ان تمام لوگوں کے دلوں میں بھی امید کی کرن پیدا ہوگئی ہے جن کے چہیتے مختلف معاملات میں پاکستان کی مختلف جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر انصار برنی بھی آتے تو گاؤں والے ان کو اعزاز سے نوازتے’ کیونکہ ان کی وجہ سے ہی کشمیر سنگھ کی رہائی ممکن ہوسکی ہے۔‘

کشمیر سنگھ کی رہائی کو جہاں ہندوستان اور پاکستان کے بہتر ہوتے رشتوں کی ایک کڑی مانا جارہا ہے وہیں ان تمام خاندانوں کے درمیان بھی امید کی کرن پیدا ہوگئی ہے جن کے چہیتے مختلف معاملات میں پاکستان کی مختلف جیلوں میں سزا کاٹ رہے ہیں۔

ان میں سے ایک سربجیت سنگھ کی بہن بلجیت کور بھی کشمیر سنگھ کی آمد کے وقت واہگہ سرحد پر موجود تھیں۔ ان کا کہنا تھا ’میرا بھائی بھی پاکستان میں سزا کاٹ رہا ہے۔ اور کشمیر سنگھ کی رہائی کے بعد مجھے امید ہے کہ سربیجیت کی رہائی بھی ہوگی۔ میں نے انصار برنی سے بات کی ہے انھوں نے مجھ سے کہا ہے کہ وہ سربجیت کے معاملے پر غور کریں گے۔‘

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے جیلوں میں تقریبا 200 قیدی ایسے ہیں جو اپنی سزا کی مدت پوری کرچکے ہیں لیکن ان کی رہائی نہیں ہوئی ہے۔ ایسے ہی سینکڑوں پاکستانی قیدی، ہندوستان کی جیلوں میں بھی ہیں۔ لیکن اب کشمیر سنگھ کی رہائی کے بعد انہیں امید ہے کہ وہ بھی واپس اپنے ملک جاسکیں گے اور باقی کی زندگی اپنے عزیزوں کے ساتھ گزار سکیں گے۔

 کشمیر سنگھقید سے ملی رہائی
کشمیر سنگھ 35 برس بعد اپنے اہل خانہ سے ملے
 کشمیر سنگھکشمیرسنگھ کی آزادی
پینتیس برس بعد کشمیر سنگھ کی رہائی
سالنامہپیشرفت کا سال
پاک بھارت تعلقات میں مثبت پیشرفت کا سال
مذاکراتتوقعات اور حقائق
مذاکرات کے ایک اور دور کا پیر سے آغاز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد