BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 August, 2007, 16:29 GMT 21:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک سو چونتیس انڈین قیدی رہا

رہا ہونے والے میں بیشتر مچھیرے ہیں جو سمندر میں راستہ بھٹک گئے تھے
یوم آزادی پر خیر سگالی کے اقدام کے طور پر پہلے مرحلے میں پاکستان نے ایک سو چونتیس قیدیوں کو رہا کر دیا ہے جبکہ ہندوستان منگل کو پاکستانی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

قیدیوں کی یہ رہائی دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کےاقدام کے طور پر عمل میں آئی ہے۔ ہندوستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے سرگرم انصار برنی ٹرسٹ کے صارم برنی ان قیدیوں کی حوالگی کے موقع پر واہگہ باڈر پر موجود رہے۔

انہوں نے بتایا کہ سو مچھیروں کو کراچی کی لانڈھی جیل سے رہا کر کے خصوصی بسوں میں لاہور لایا گیا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو سمندر میں مچھلیاں پکڑتے ہوئے حکام کے بقول پاکستانی حدود میں چلے گئے تھے۔

دو خواتین سمیت چونتیس ہندوستانیوں کو لاہور کی جیل سے رہا کیا گیا۔ ان میں وہ افراد شامل ہیں جنہیں غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنے یا ویزے کی مدت ختم ہوجانے کے باوجود پاکستان میں قیام کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔

وطن لوٹنے والوں میں اٹھائیس افراد ایسے تھے جن کی عمریں سترہ برس سے کم تھیں۔ یہ لوگ وطن جانے کے عمل کے دوران خوش دکھائی دے رہے تھے۔

رہا ہونے والوں میں دو خواتین بھی تھیں
پچھلے نو ماہ کے دوران پاکستان سے ہندوستانی قیدیوں کا رہائی کا یہ چوتھا مرحلہ ہے۔ دسمبر میں پاکستان نے پچاس ماہی گیروں سمیت ستر بھارتی رہا کیے تھے جبکہ جنوری میں ایک سو پندرہ ہندوستانی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی تھی۔

گذشتہ مہینے کے اوائل میں اکیاون ہندوستانی قیدی رہائی کے بعد وطن واپس چلے گئے۔اس تمام عرصے کے دوران ہندوستان سے بھی مرحلہ وار پاکستانی قیدیوں کی رہائی عمل میں آتی رہی ہے۔

دونوں ملکوں کے تعلقات میں سرد مہری کے بعد پچھلے چار برس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تین ہزار سے زائد قیدیوں کا تبادلہ ہوچکا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک دوسرے کے شہریوں کو ملک کی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کے الزام میں پکڑتے رہتے ہیں اور بعد میں اعتماد سازی کے نام پر انہیں رہا کیا جاتا ہے۔

دونوں ملکوں نے ساٹھویں یوم آزادی پر ایک دوسرے کے قیدی رہا کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اس کے مطابق پاکستان نے اپنے یوم آزادی سے ایک دن پہلے ایک سو چونتیس قیدی رہا کیے ہیں جبکہ توقع ہے کہ ہندوستان اپنے یوم آزادی یعنی پندرہ اگست سے ایک روز پہلے ستر کے لگ بھگ پاکستانی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

اسی بارے میں
سربجیت کی درخواست واپس
29 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد