کشمیر آزاد ہو کر انڈیا پہنچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پینتیس برس تک قید میں رہنے والے کشمیر سنگھ منگل کی صبح واہگہ سرحد کے راستے ہندوستان پہنچ گئے ہیں۔ کشمیر سنگھ کو الوداع کہنے کے لیے پاکستان کے نگراں وزیر برائے انسانی حقوق انصار برنی اور پاکستانی اہلکاروں کا ایک بڑا وفد سرحد پر موجود تھا۔ کشمیر سنگھ نے پاکستان کی سرحد کی جانب کھڑے ہوئے اہلکاروں اور شہریوں کو آخری بار ہاتھ ہلا کر الوداع کہا۔ کشمیر سنگھ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ سرحد پر موجود ہندوستانی اہلکار انہیں بارڈر سکیورٹی فورسز کے دفتر لے گئے جہاں ان کی اہلیہ ، بیٹا اور بہور ان کا انتظار کر رہے تھے۔ بیوی پرمجیت کور نے کہا کہ انہیں پوری امید تھی کہ ایک دن کشمیر سنگھ واپس لوٹیں گے۔ کشمیر سنگھ کو انیس سو تہتر میں راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا اور ایک فوجی عدالت نے انہيں جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا سنائی تھی ۔ وہ گزشتہ 35 برس سے جیل میں تھے۔ انصار برنی کی مداخلت پر پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے ان کی موت کی سزا معاف کردی تھی۔ کشیمر سنگھ کا تعلق ہندوستان کے پنجاب کے ہوشیار پور ضلع سے ہے۔ ان کے دوبیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ ان کی آمد پر ان کے گاؤں میں خوشی کی لہر دورڑ گئی ہے۔ سرحد پار ہندوستان میں جانے سے قبل واہگہ باڈر پر اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ان خبروں کی تردید کی کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان واپس آ کر داتا دربار اور پاک پتن میں چادریں چڑہیں۔ |
اسی بارے میں پینتیس برس بعد کشمیر آزاد03 March, 2008 | پاکستان بھارتی قیدی: پینتیس برس بعد رہائی29 February, 2008 | پاکستان ایک سو چونتیس انڈین قیدی رہا13 August, 2007 | پاکستان بھارتی قید سے 70 پاکستانی قیدی رہا14 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||