بھارتی قیدی: پینتیس برس بعد رہائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نگران وزیر برائے انسانی حقوق انصار برنی نے کہا ہے کہ وہ خود پینتیس سال تک پاکستانی قید میں رہنے والے بھارتی باشندے کشمیر سنگھ کو تین مارچ کو بھارتی پنجاب میں واقع اس کے گاؤں ہوشیار پور چھوڑ کر آئیں گے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تمام ضروری کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ امرتسر پولیس کے سپاہی کشمیر سنگھ کو ان کے ایک ساتھی سمیت انیس سو تہتّر میں راولپنڈی سے گرفتار کیا گیا تھا اور کشمیر سنگھ کو جاسوسی کے الزام میں فوجی عدالت نے سزائے موت دی تھی جبکہ اس کے ساتھی کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جو اپنی سزا پوری کرنے کے بعد بھارت چلے گئے تھے۔ کشمیر سنگھ گزشتہ پینتیس سال سے قید میں تھے اور انصار برنی کی مداخلت پر پاکستانی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ان کی رحم کی اپیل منظور کرتے ہوئے موت کی سزا ختم کر دی تھی۔ کشمیر سنگھ نے عدالت کی طرف سے دی جانے والی موت کی سزا کے خلاف انیس سو اٹھہتر میں اس وقت کے صدر چوہدری فضل الٰہی کے سامنے رحم کی اپیل کی گئی تھی جو مسترد کر دی گئی۔ انصار برنی کا کہنا تھا کہ کشمیر سنگھ کے خاندان سے رابطہ ہوگیا ہے اور اگر وہ اس ضمن میں پاکستان آنا چاہیں تو انہیں ہر قسم کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سنگھ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ انصار برنی نے بتایا کہ جس وقت کشمیر سنگھ کو گرفتار کیا گیا تھا اس وقت اس کی عمر چھبیس برس تھی اور وہ قید کے دوران ملک کی مختلف جیلوں میں رہے ہیں اور قید کا زیادہ حصہ انہوں نے ساہیوال میں گزارا ہے جو چودہ سال پر محیط ہے۔ انصار برنی کے مطابق نگران وفاقی وزیر بننے کے بعد جب انہوں نے جیلوں کے دورے شروع کیے تو کوٹ لکھ پت جیل کے دورے کے دوران ان کی ملاقات ایک ساٹھ سالہ قیدی ابراہیم جس کا اصل نام کشمیر سنگھ ہے سے ہوئی اور جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کب جیل میں آئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ انہیں ڈھائی ماہ ہوگئے ہیں۔ ’پہلے تو میں نے اس پر توجہ نہیں دی لیکن تھوڑی دیر کے بعد میں نے جیل انتظامیہ سے کہا کہ وہ ابراہیم سے دوبارہ ملنا چاہتے ہیں۔ملاقات کے دوران ابراہیم نے بتایا کہ اس کا اصل نام کشمیر سنگھ ہے اور وہ گزشتہ پینتیس سال سے جیل میں پڑا ہے‘۔ انصار برنی نے بتایا کہ چھ سات سال قبل لندن میں ایک ریڈیو پروگرام کے دوران ان کو ایک فون آیا تھا جس میں کشمیر سنگھ کے پاکستان کی جیل میں ہونے کا بتایا گیا تھا اور اس کے بارے میں یہ معلومات چاہیں کہ آیا وہ زندہ ہے کہ مرچکا ہے۔ نگران وفاقی وزیر نے کہا کہ کشمیر سنگھ کا ریکارڈ لینے کے بعد انہوں نے صدر مشرف سے ملاقات کی اور انہیں ان حالات کے بارے میں بتایا۔ ’صدر خود یہ بات سن کر حیران رہ گئے‘۔ نگراں وفاقی وزیر نے کہا کہ فوجی عدالت سے سزا ملنے کی وجہ سے کشمیر سنگھ کے کاغذات نہیں مل رہے تھے تاہم ایوان صدر کی ہدایات پر وزارت داخلہ نے مذکورہ شخص کے کاغذات تلاش کر لیے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر سنگھ کا ریکارڈ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے پاس بھی نہیں تھا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کشمیر سنگھ کی رہائی پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی کی راہ کو ہموار کرے گی۔ |
اسی بارے میں ایک سو چونتیس انڈین قیدی رہا13 August, 2007 | پاکستان بھارتی قید سے 70 پاکستانی قیدی رہا14 August, 2007 | پاکستان باقی باسٹھ قیدی بھی رہا کریں: پاکستان 15 August, 2007 | پاکستان ’قانون ملاقاتیں نہیں روک سکتا‘ 27 February, 2008 | پاکستان قیدی عورتوں اور بچوں کیلیے کمیٹی 27 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||