پاک بھارت ثقافتی مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان ثقافتی تعلقات میں بہتری کے لیے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات جمعہ کو بھی جاری رہیں گے اور خیال کیا جا رہا کہ تعلیم، صحت اور سیاحت سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔ جمعرات کو مذاکرات کے پہلے دور میں سیاحوں اور زائرین کو سہولیات کی فراہمی، ثقافتی تعلقات کا فروغ، مشترکہ فلمسازی اور فلموں کی نمائش سے متعلق امور زیرِ بحث آئے تھے۔ پاکستان کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت سیکرٹری ثقافت سلیم گل شیخ نے کی جبکہ بھارتی وفد کی قیادت ان کے ہم منصب بادل کے داس کر رہے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے بھارتی فنکاروں کو اس سال اکتوبر میں لوک ورثہ میلے میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی۔
وزارتِ ثقافت کی ایک سینئر اہلکار ثمینہ حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارتی وفد نے ’ کلچرل ایکسچینج پروگرام‘ کے حوالے سے اپنی حکومت کے تیار کردہ ڈرافٹ کی کاپی پاکستان کے حوالے کی ہے۔ ثمینہ حسن کا کہنا تھا کہ بھارتی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد مستقبل قریب میں ان کا جواب دیا جائے گا۔ مذاکرات کے پہلے دور میں بھارتی مصورہ امریتا شیرگِل اور پاکستانی مصور عبدالرحمان چغتائی کے فن پاروں کی پاکستان میں مشترکہ نمائش کا انعقاد بھی زیر غور آیا۔ اس کے علاوہ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس اور اس کے متوازی بھارتی ادارے آئی سی سی آر کے مابین اشتراک عمل کے معاملے پر بھی بات کی گئی۔ بات چیت کا موجودہ دور پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کمپوزٹ ڈائیلاگ کے تحت دوستانہ تبادلے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ثقافتی مذاکرات کے پہلے دن بھارتی وفد کے ارکان کو اسلام آباد کے قریب آثارِ قدیمہ کے حامل شہر ٹیکسلا کا دورہ کرایا گیا۔ |
اسی بارے میں ’بھارتی خاندانوں کی بے مثال مدد کی‘11 June, 2007 | پاکستان ’دونوں ملک ایک ہوجائیں‘25 March, 2007 | پاکستان کھیل اور ہیلی کاپٹر سروس پر بات14 March, 2007 | پاکستان پاک بھارت مذاکرات کا چوتھا دور13 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||