’دونوں ملک ایک ہوجائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست مدھیہ پردیش کی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر ہزاری لعل رگھونشی نے کہا کہ ’پاکستان ہمارا جگر کا ٹکڑا ہے، ہم سب ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں، جھگڑ کر جانا کہاں ہے؟‘ انہوں نے کہا کہ ’دونوں ملکوں کو ایک ہوجانا چاہیے۔ ‘ یہ بات انہوں نے سنیچر کی شب نئی دہلی سے پاکستان پہنچنے کی بعد کہی۔ وہ اس تیس رکنی ہندوستانی وفد میں شامل ہیں جو ’دولت مشترکہ پارلیمنٹرین کانفرنس برائے ایشیا و انڈیا ریجن‘ میں شرکت کرنے کے لیے لاہور پہنچا ہے۔ اس وفد میں ہندوستان کی بیس ریاستی پارلیمانوں، راجیہ اور لوک سبھا کے اراکین، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر شامل ہیں۔ چھبیس مارچ سے اسلام آْباد میں شروع ہونے والی کانفرنس میں جنوبی ایشیا کے ممالک پاکستان، ہندوستان، سری لنکا اور مالدیپ کی مرکزی اور صوبائی، زیر و بالا پارلیمان کے اراکین شرکت کر رہے ہیں۔ بھوپال سے آئے ہزاری لعل نے کہا کہ جب خاندان میں بھائی بھائی سے الگ ہوجاتا ہے تواس علیحدگی (ہندوستان اور پاکستان کی تقسیم) کو بھی سب کوسمجھ لینا چاہیے۔ جب ان سے کہا گیا کہ دونوں ملکوں میں کئی برس کی کوششوں کے باوجود امن پیدا نہیں ہو پا رہا تو انہوں نے کہا کہ رکاوٹ وچاروں (سوچ یا نظریات) کی ہے۔
مدھیہ پردیش کے سپیکر ایشور داس روہنی بھی قریب ہی موجود تھے اور جب ان سے کہا گیا کہ تعلقات میں رکاوٹ ایک یہ بھی ہے کہ پاکستان کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ خطرہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے مسلمان ہندوستان میں جتنے محفوظ ہیں اتنے پاکستان میں نہیں۔ ان کے خیال میں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان کے رہنے والے پوری انسانیت کی بھلائی چاہتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ دونوں ملکوں کو پھر سے ایک ہونے کی تجویز دے رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ انسان تو ایک ہی ہے، اصل بات یہ ہے کہ غربت، ناانصافی اور دوسری انسانی تکلیفوں کو دور کیا جائے اور اس کام میں مذہب آڑے نہیں آنا چاہیے۔ ہندوستانی وفد کے سربراہ ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے رحمان خان نے کہا کہ یہ اجلاس سرکاری نہیں ہے بلکہ عوام کے نمائندوں کا اجلاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عوام کا عوام سے رابطہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں طرف کے پارلیمنٹرین آئیں گے تو دوستی اور بھائی چارگی بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ہندوستانی پارلیمانی رہنماؤں کی پاکستان آمد سے دونوں ملکوں میں جاری اعتماد سازی کے اقدامات کو تقویت ملے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کر لی ہے اور وہ جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔ دولت مشترکہ پارلیمنٹرین ایسوسی ایشن کی مجلس عاملہ کے چیئر مین ہاشم عبدالحلیم نے بتایا کہ اسلام آباد میں تین روزہ اجلاس کے دوران ممبر ملکوں سے غربت کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر نظر ڈالی جائے گی۔ اس کے علاوہ غور کیا جائے گا کہ ٹیلی کاسٹ اور انفارمشین ٹیکنالوجی کو کس طرح رکن ممالک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دولت مشترکہ کی پارلیمنٹرین ایسوسی ایشن کی کانفرنس ستمبر دو ہزار سات میں انڈیا میں ہوگی جس میں ترپن ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان نوجوان لڑکے لڑکیوں کا آنا جانا شروع ہونا چاہیے، تجارت، علاج و معالجہ اور سیاحت کے راستے کھلنے چاہیئیں۔ لاہور ایئر پورٹ پر ہندوستانی وفد کا استقبال سنیٹر ظفر اقبال چودھری نے کیا۔ ہندوستانی وفد کے اراکین اتوار کو لاہور کی سیر کے بعد سڑک کے راستے اسلام آباد پہنچیں گے۔ اسلام آباد میں پاکستان کےسپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین اس تین روزہ کانفرنس کے میزبانی کے فرائض انجام دیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||