آؤ بچوں سیر کرائیں تم کو۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے دو سکولوں کے طالب علموں نے بدھ کو ایک خصوصی پروگرام میں سیٹلائٹ کے ذریعے آپس میں بات چیت کی اور دونوں ممالک کے بارے میں ایک دوسرے سے براہ راست معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ گفتگو کا اہتمام بی بی سی ہندی اور اردو سروس نے پروگرام ’جینریشن نیکسٹ’ یا ’اگلی نسل‘ کے تحت کیا تھا۔ پروگرام میں ہندوستان کے دارالحکومت دِلّی میں کیندریا ودیالے اور لاہور کے کریسنٹ ماڈل سکول کے بچوں نے شرکت کی۔ طالب علموں کا تعلق نویں سے بارہویں جماعت تک تھا۔ گفتگو کا موضوع سکولوں میں پڑھایا جانے والا تاریخِ ہندو پاک کا نصاب تھا۔ بچوں نے اپنے اپنے سکول سے اس پروگرام میں شرکت کی۔ پروگرام میں ہندوستان سے ڈاکٹر کرشن کمار اور پاکستان سے ڈاکٹر مبارک علی نے بطور ماہرین شرکت کی۔
گفتگو کے دوران طالب علموں نے تقسیم ہند کی وجوہات اور ان ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کے بارے میں بات چیت کی۔ دِلی کے بچوں کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں حقوق حاصل ہیں اور پاکستان بنانے کی ضرورت نہیں تھی جبکہ پاکستانی بچے تقسیم کو مثبت انداز میں دیکھ رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندو اکثریت والے علاقوں میں مسلمانوں کے ساتھ یقیناً کچھ زیادتیاں ہوئی ہوں گی جو انہوں نے الگ ملک کا مطالبہ کیا۔ تاہم ایک بات پر دونوں متفق تھے کے ماضی میں جو کچھ بھی ہوا اسے بھلا کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ پروگرام کے دوران دونوں ممالک کے بچوں میں روابط بڑھانے میں انٹرنیٹ کا فائدہ اٹھانے کی بھی بات کی گئی اور کہا گیا کہ پاک و ہند کے درمیان سفری مشکلات کی موجودگی میں اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ گفتگو کے دوران ایک موقع پر ڈاکٹر مبارک علی کو کہنا پڑا کہ اب بچے بھی ’ڈپلومیسی’ سے کام لے رہے ہیں کیونکہ پاکستانی بچوں نے ہندوستان سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان میں گاندھی کے بارے میں مثبت انداز میں بات کی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کچھ غلطیاں بھی کیں۔ اسی طرح ہندوستان سے بھی بچوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ محمد علی جناح کا ان کے ہاں اچھے الفاظ میں ذکر ہوتا ہے اور اس کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ ان سے بھی کچھ غلطیاں ہوئیں۔ طالب علموں نے کرکٹ اور فلموں کا بھی ذکر کیا۔ ہندوستان والوں کا خیال تھا کہ اگر پاکستان اور ہندوستان کی کرکٹ ٹیم ایک ہو جائے تو وہ سب کو ہرا سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں پاکستان میں ایک بچے نے کہا کہ آسٹریلیا کو تو ورلڈ الیون بھی نہیں ہرا سکی تو یہ دو ملک کیا کریں گے۔
اسی طرح ایک پاکستانی طاب علم نے کہا کہ اتحاد اور دوستی اچھی چیز ہے اور ہمیں کرنی چاہیے لیکن اس میں ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ اختلافات شروع کیوں ہوئے اور اس کی یقیناً کوئی وجہ تھی۔ اس ضمن میں کشمیر کا بھی ذکر ہوا۔ لیکن ہر بار اختلافات کی بات کے بعد امن اور دوستی کی ضرورت اور ماضی کو بھلانے کی اہمیت کا ذکر بھی ہوا۔ دونوں ملکوں کے طالب علموں نے ایک دوسرے کو اپنے ملک آنے کی دعوت دی اور کہا کہ وہ ایک دوسرے کو خوب سیر کرائیں گے۔ انہوں نے ایک دوسرے سے ان کی ثقافت کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنی چاہیں۔ پاکستانی بچوں نے جاننا چاہا کہ کیا ہندوستان ویسا ہی جیسا کہ فلموں میں نظر آتا ہے۔ پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر مبارک علی نے کہا کہ بچوں کو بزرگوں کی بات ماننے کی بجائے خود مستقبل کا راستہ تلاش کرنا چاہیے اور امن اور شانتی کے لیے ماضی کی بجائے مستقبل کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ | اسی بارے میں بی بی سی ویب کاسٹ کی پذیرائی22 June, 2004 | پاکستان تصویر کے ذریعے سہی ملے تو ہیں23 June, 2004 | پاکستان ویب ملاقات کا دوسرا دن21 June, 2004 | پاکستان لاپتہ پاکستانی، براہِ راست ویب کاسٹ03 July, 2006 | پاکستان لاپتہ پاکستانی: بی بی سی ویب کاسٹ03 July, 2006 | پاکستان کراچی ممبئی کنسرٹ، ویڈیو اور آڈیو27 September, 2005 | فن فنکار کراچی اور ممبئی میں سروں کا پل27 September, 2005 | فن فنکار سونامی کیلیے پاک انڈیا کنسرٹ25 January, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||