BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 March, 2007, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کھیل اور ہیلی کاپٹر سروس پر بات

ریاض کھوکھر اور شیو شنکر مینن نے مشترکہ پریس کانفرنس
پاکستان اور بھارت نے لائن آف کنٹرول پر نئی فوجی چوکیاں اور دفاعی تعمیرات نہ کرنے سے متعلق ایک معاہدے پر پہنچنے کے لیئے بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان ہیلی کاپٹر سروس اور کھیلوں کے مقابلے کرانے جیسی بھی تجاویز زیر غور ہیں۔

اس بات کا اعلان دونوں ہمسایہ ممالک کے خارجہ سیکٹریوں نے اسلام آباد میں بدھ کو دو روزہ مذاکرات کے اختتام پر کیا۔

ان مذاکرات میں پاکستان کے سیکٹری خارجہ ریاض محمد خان اور ان کے بھارتی ہم منصب شیو شنکر مینن نے اپنے اپنے وفود کی قیادت کی۔

اسلام آباد میں وزارت خارجہ میں ہونے والی بات چیت سے متعلق صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکٹری خارجہ ریاض محمد خان نے کہا کہ جن معاہدوں کے لئیے بات چیت شروع کرنے پر فریقین میں اتفاق ہوا ان میں متنازعہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر مزید نئی فوجی چوکیاں اور دفاعی تعمیرات نہ کرنے، لائن آف کنٹرول پر جاری جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کرنے، غلطی سے سرحد پار کرنے والوں کی واپسی، سمندر میں حادثات سے بچنے اور بین الاقوامی سرحد کے کنٹرول سے متعلق رہنما اصولوں کا تعین کرنا شامل ہیں۔

دونوں ممالک کے تجزیہ نگاروں کی توقعات کے مطابق کشمیر جیسے اہم تنازع پر کوئی خاص پیش رفت تو بظاہر نہیں ہوئی البتہ نسبتًا کم اہم معاملات پر بات آگے بڑھی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان سن دو ہزار چار سے جاری جامع مذاکرات کے تین دور ہو چکے ہیں۔ جس میں کشمیر سمیت تمام اہم معاملات زیر بحث رہے ہیں اور اب چوتھے دور کا آغاز ہونا ہے جس کی یہ مذاکرات ابتدائی کڑی ہیں۔

قیدیوں کے تبادلہ پر کمیٹی بنانے پر اتفاق

فریقین نے ’نیوکلیر ڈوکٹرائن‘ پر بھی مزید بات چیت پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک میں کشمیر کے بڑے تنازعے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے سے جاری اعتماد سازی کے اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے، ٹرک سروس شروع کرنے اور پانچ کراسنگ پوائنٹس کو فعال رکھنے پر اتفاق بھی کیا۔

کشمیر پر کوئی اہم پیش رفت نہ ہونے سے متعلق دونوں خارجہ سیکٹریوں سے چبھتے ہوئے سوالات ہوئے تو دونوں نے اس عمل کو سست مانتے ہوئے اس کا بھرپور دفاع کیا۔

ریاض محمد خان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ماضی میں کبھی بھی اتنے جامع اور مسلسل مذاکرات کا عمل کبھی نہیں دیکھا گیا اور پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔ ’ان مذاکرات کے نتائج ہی بتا سکیں گے کہ ہم کامیاب ہوئے ہیں یا ناکام۔‘

کشمیر میں مزید اعتماد سازی کی نئی تجاویز کے بارے میں بتایا گیا کہ مظفرآباد اور سرینگر کے درمیان ہیلی کاپٹر سروس اور کھیل کرانے جیسی تجاویز زیر غور ہیں۔

سیاچن کے قضیے کے بارے میں دونوں ممالک نے سیکٹری دفاع اور ڈائریکٹر جنرل (ملٹری آپریشن) کی جلد از جلد ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔

سمجھوتہ ایکسپریس حادثے کے بارے میں بھارتی سیکٹری خارجہ نے بتایا کہ انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے مزید پاسپورٹ نمبر پاکستان کو فراہم کئے ہیں تاکہ اب تک شناخت نہ کیئے جانے والوں کے بارے میں کچھ معلوم ہوسکے۔

شنکر مینن نے کہا کہ انہوں نے غیرشناخت شدہ انیس افراد کے ڈی این اے نمونے رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان سے کوئی بھی ان کی شناخت میں مدد کے لیئے ان سے ان کے اسلام آباد ہائی کمیشن رابطہ کر سکتا ہے۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی جیلوں میں قید شہریوں کی جلد رہائی اور بہترسلوک کے بارے میں ایک مجوزہ کمیٹی کی تشکیل کے لیئے چار چار ججوں کے ناموں کا بھی تبادلہ کیا ہے۔

پاکستانی سیکٹری خارجہ نے سال دو ہزار سات کو انتہائی اہم قرار دیا جس سے مبصرین کے مطابق متنازعہ مسائل کے جلد حل ہونے کی امید ایک مرتبہ پھر پیدا ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
مذاکرات کا پہلا دور مکمل
06 March, 2007 | پاکستان
طویل ایجنڈے پر مفصل بات چیت
21 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد