مذاکرات کا پہلا دور مکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور انڈیا کے نمائندوں کے درمیان انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اقدامات اور ایک دوسرے سے معلومات کے تبادلے کا طریقہ کار وضع کرنے کے بارے میں بات چیت کا پہلا دور مکمل ہوگیا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں ممالک نے انسدادِ دہشت گردی کے بارے میں تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔ دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بتایا کہ بدھ کو بھارتی وفد پاکستان کے سکریٹری خارجہ سے ملاقات کرے گا جس کے بعد بیان جاری کیا جائے گا۔ پہلے دن کی بات چیت کے بارے میں فریقین آن دی ریکارڈ کچھ بھی بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔ تاہم نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے نمائندوں نے کشمیر میں شدت پسندی رکوانے میں پاکستان سے تعاون پر بات کی جبکہ پاکستان نے افغانستان میں بھارت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور بلوچ قوم پرستوں کی مدد کے متعلق معاملات اٹھائے ہیں۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سکریٹری طارق عثمان حیدر جبکہ بھارتی وفد کی قیادت کے سی سنگھ کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک میں نصف صدی سے بھی زائد عرصہ تک پائی جانے والی دونوں ممالک میں دہشت گردی کی تشریح پر بھی واضح اختلاف رائے رہا ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسند کارروائیوں کا پاکستان حامی رہا اور اُسے جہاد کہتا رہا ہے جبکہ ہندوستان ایسی کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی ذمہ داری بھی پاکستان پر عائد کرتا رہا ہے۔ حکام کے مطابق بھارت نے سمجہوتہ ایکسپریس کی تحقیقات کے متعلق زیادہ معلومات پاکستان کو یہ کہتے ہوئے فراہم نہیں کی کہ ابھی جانچ جاری ہے۔ لیکن ان کے مطابق تحقیقات کے سلسلے میں جن پاکستانیوں پر شبہ ہے اس بارے میں پاکستان سے مدد مانگی ہے اور کچھ معلومات بھی دی ہے۔ واضح رہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کے بعد آگ لگنے سے اڑسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں زیادہ تر پاکستانی تھے۔
بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ ابتدائی نوعیت کی بات چیت ہے اور پہلی ملاقات میں کسی بڑے بریک تھرو کی توقع کم ہے۔ لیکن ان کے مطابق انسداد دہشت گردی کے متعلق تعاون کے بارے میں تھوڑی پیش رفت بھی ہوتی ہے تو اس سے دونوں ممالک میں اعتماد سازی کے دیگر اقدامات کے لیے ایک مضبوط بنیاد حاصل ہو سکے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال غیر جانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر صدر جنرل مشرف اور وزیراعظم منموہن سنگھ کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ دونوں ممالک دہشگردی پر قابو پانے کے لیے ایک دوسرے سے خفیہ معلومات کا تبادلہ کریں گے۔ دونوں ممالک کشمیر سمیت تمام دیگر تصفیہ طلب مسائل پر بھی گزشتوں تین برسوں سے بات چیت کرتے رہے ہیں لیکن ابھی تک مذاکرات جاری رہنے کے علاوہ کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے گزشتہ روز ایک بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان کو توقع ہے کہ بھارت سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحے کے متعلق معلومات پاکستان کو مہیا کرے گا۔ | اسی بارے میں پاک، انڈیا: خفیہ معلومات کے تبادلے پر مذاکرات06 March, 2007 | پاکستان منموہن تجاویز کا زبردست خیر مقدم27 March, 2006 | پاکستان ’دہشت گردی سےنمٹا جائےگا‘18 January, 2007 | پاکستان منموہن کی امن معاہدے کی تجویز24 March, 2006 | پاکستان بھارت تعاون نہیں کر رہا: دفترِ خارجہ05 March, 2007 | پاکستان ’انڈیا ہمیں تفتیش سے آگاہ رکھے‘04 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||