BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 March, 2006, 16:43 GMT 21:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منموہن تجاویز کا زبردست خیر مقدم

وزیر اعظم منموہن سنگھ
بھارتی وزیراعظم کے دورہ پاکستان کے بارے میں تاحال سرکاری طور پر رابطہ نہیں کیا گیا: ترجمان
پاکستان نے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی جانب سے ’دوستی امن اور سلامتی‘ کے معاہدے کی پیشکش کے بارے میں اپنا تفصیلی رد عمل ظاہر کرتے ہوئے پیر کے روز کہا ہے کہ ان کی تجاویز نے جامع مذاکرات میں جان ڈال دی ہے اور لگتا ہے کہ اب بات چیت ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگی۔

ہفتہ وار بریفنگ میں پاکستان کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کی تجاویز مثبت ہیں اور انہوں نے کشمیر کے قابل عمل حل کی بات کی ہے۔ لیکن انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ دیرینہ کشمیر تنازع کا تصفیہ کیے بنا دیگر معاملات پر سمجھوتے کا امکان غیر حقیقی ہوگا۔

ترجمان نے بریفنگ میں دو صفحات پر مشتمل ایک تحریری بیان پڑھا اور کہا کہ اگر ماضی میں کشمیر کو علحیدہ کیے بنا امن بات چیت آگے بڑھائی جاتی تو وہ کچھ نہیں ہوتا جو انسٹھ برس میں دیکھنے کو ملا۔

انہوں نے گزشتہ جمعہ کو امر تسر سے ننکانہ صاحب تک بس سروس شروع کرنے کی تقریب کے دوران وزیراعظم منموہن کے خطاب کا ذکر کیا اور کہا کہ ’وہ کہتے ہیں کہ دونوں ممالک اپنے زیرانتظام کشمیر کی سرحدوں کو غیر متعلقہ بنادیں‘۔

لیکن ترجمان نے کہا اس بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف اس سے پہلے کئی بار کہہ چکے ہیں کہ کشمیریوں کے لیے سرحدیں غیر موثر کردیں اور پانچ مقامات سے انہیں بنا ویزہ آنے جانے کی سہولت ملنی چاہیے، لیکن اس پر مکمل عمل نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو جب منموہن سنگھ نے یہ تجاویز پیش کی تھیں تو ترجمان نے اپنا فوری مگر محتاط رد عمل ظاہر کیا تھا۔ جس کا لبِ لباب تو وہ ہی ہے جو پیر کے روز تفصیلی بیان میں کہا گیا ہے لیکن تفصیلی رد عمل میں جہاں کھل کر اس کا خیرمقدم کیا گیا ہے وہاں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کشمیر کے حل کے سوا کوئی بھی سمجھوتہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کا ضامن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی دونوں ممالک امن اور دوستی کے بارے میں تجاویز پیش کرتے رہے ہیں لیکن کشمیر کے حل پر پیش رفت نہ ہونے اور اعتماد کے فقدان کی وجہ سے معاملات آگے نہیں بڑھ پائے۔

ایک سوال پر تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کے دورہ پاکستان کے بارے میں تاحال بھارتی حکومت نے سرکاری طور پر رابطہ نہیں کیا۔

یاد رہے کہ چند روز قبل اخبارات میں ذرائع کے حوالے سے یہ خبریں شایع ہوئی تھیں کہ جون یا جولائی میں من موہن سنگھ پاکستان دورہ کریں گے۔

اسی بارے میں
’مسئلے کا حل ہمارے عہد میں‘
10 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد