قصوری دلی میں، زخمیوں سےملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری منگل کو دلی پہنچ گئے ہیں۔ وہ ایئر پورٹ سے صفدر جنگ ہسپتال پہنچے جہاں انہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرین سے ملاقات کی ہے۔ مسٹر قصوری سمجھوتہ ٹرین پر بم دھماکوں کے نیتجے میں 66 افراد کی ہلاکتوں کی تحقیقات پر بھارتی حکام سے بات چیت کریں گے۔ تاہم بدھ کے روز پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان پہلے سے طے شدہ ایجنڈے پر بدھ کے روز باضابطہ مذاکرات ہوں گے۔ خورشید محمود قصوری نے ان خدشات کی تردید کی کہ سمجھوتہ سانحے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری امن کے عمل پر اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا: ’بلکہ اس واقعے کے بعد تو امن کے عمل میں اور تیزی لائی جانی چاہیے۔‘ انہوں نے کہا کہ سمجھوتہ بم حملوں کا ارتکاب کرنے والوں کو اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان اور بھارت دونوں پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امن کے عمل کو سمجھوتہ سانحے سے کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ خورشید قصوری خصوصی پرواز سے منگل کو دلی پہنچیں گے اور انہوں نے اس دورے سے قبل پاکستانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے شہریوں کے لیے ویزے کے حصول میں سہولت پیدا کرنے کی غرض سے کچھ تجاویز ساتھ لے کر جا رہے ہیں۔
دونوں ممالک جوہری حادثات کے امکان کو کم کرنے کے لیے بھی ایک معاہدے پر دستخط کریں گے۔ اس کے علاوہ بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں کشمیر کا مسئلہ اور سیاچن گلیشیئر پر فوج میں کمی پر بھی بات چیت ہوگی۔ انڈیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر شاہد ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ خورشید قصوری جوائنٹ کمیشن کے سلسلے میں اپنے ہم منصب پرنب مکھر جی سے مذاکرات کریں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سمجھوتہ ایکسپریس پر ہونے والے بم دھماکوں اور نتیجتاً 66 افراد کی ہلاکت کے بعد جن میں بیشتر پاکستانی شہری ہیں، امن کے امن کی راہ میں دشواریاں حائل نہیں ہوں گی تو پاکستانی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات پر سمجھوتہ سانحے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ’ہمارا موقف ہے کہ ایسے واقعات سے امن کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔‘ تاہم شاہد ملک نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی وزیرِ خارجہ بھارتی حکام سے سمجھوتہ ایکسپریس کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کے بارے میں استفسارکریں گے۔ پہلے ہی پاکستان نے بھارت سے درخواست کی ہے کہ سمجھوتہ سانحہ کی تحقیقات جلد کرائی جائیں اور انکوائری سے ملنے والی معلومات میں پاکستان کو شریک کیا جائے۔ بھارت میں ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو نے گزشتہ روز کہا تھا کہ سمجھوتہ ایکسپریس پر بم دھماکے سیکورٹی میں چُوک کے باعث ہوئے ہیں اور ایک شخص کو پوچھ گاچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ٹرین میں تخریب کاری: 66 ہلاک19 February, 2007 | انڈیا لواحقین کے لیے خصوصی ٹرین19 February, 2007 | پاکستان ’دھماکوں کی تحقیقات کرائیں‘19 February, 2007 | پاکستان فون ہیلپ لائن، ویزا کی سہولت19 February, 2007 | پاکستان ’سمجھوتہ ایکسپریس تخریب کاری کا نشانہ‘19 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||