اسلام آباد: بات چیت نتیجے کے بغیر ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیاں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اقدامات اور ایک دوسرے سے معلومات کے تبادلے کا طریقہ کار وضع کرنے کے بارے میں بات چیت ختم ہوگئی لیکن کوئی بڑی پیش رفت یا بریک تھرو نہیں ہوسکا۔ پہلے بتایا گیا کہ یہ دو روزہ بات چیت ہے لیکن عین وقت پر بتایا گیا کہ یہ ایک روزہ بات چیت ہے۔ فریقین کے نمائندوں نے اپنے اپنے ممالک کے مخصوص صحافیوں کو بریفنگ دی اور انہیں کہا کہ وہ ذرائع کے حوالے سے خبر چلائیں۔ حکام کے مطابق انسداد دہشت گردی کے بارے میں تعاون کے متعلق بات چیت کے دوران پاکستان نے بھارت سے افغانستان میں سرگرمیوں اور بلوچستان میں قوم پرستوں کی مدد کے بارے میں بات کی۔ پاکستان نے بلوچستان میں بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں بعض ثبوت خارجہ سیکریٹریوں کی ملاقات کے موقع پر ہندوستان کو دی تھی اور اس ملاقات میں جب ان سے دریافت کیا تو بھارت نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پاکستان نے جب انڈیا کے وفد سے سمجھہوتہ ایکسپریس کی تحقیقات کے بارے میں پوچھا تو بھارتی وفد نے کہا کہ ابھی وہ تحقیقات کر رہے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ بھارت نے ایک مشتبہ حملہ آور کا خاکہ پاکستان کو دیا اور کہا کہ انہیں شبہہ ہے کہ یہ وہی پاکستانی ہے جو سن دو ہزار چھ میں بھارت میں غائب ہوگیا تھا۔ مہمان وفد نے پاکستان سے اس مشتبہ شخص کے متعلق معلومات دینے کو کہا۔ واضح رہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کے بعد آگ لگنے سے اڑسٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں زیادہ تر پاکستانی تھے۔ دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے منگل کو بتایا تھا کہ بدھ کو بھارتی وفد پاکستان کے سکریٹری خارجہ سے ملاقات کرے گا جس کے بعد بیان جاری کیا جائے گا۔ بدھ کی صبح بھارتی وفد نے خیر سگالی کے طور پر سیکریٹری خارجہ ریاض محمد خان سے ملاقات کی لیکن فریقین میں اختلاف رائے کی وجہ سے مشترکہ بیان دو پہر دو بجے تک جاری نہیں ہوسکا۔
انسداد دہشت گردی کے بارے میں تعاون کے طریقہ کار وضح کرنے کی بات چیت میں پاکستانی وفد کی قیادت وزارتِ خارجہ کے ایڈیشنل سکریٹری طارق عثمان حیدر جبکہ بھارتی وفد کی قیادت ان کے ہم منصب کے سی سنگھ نے کی۔ دونوں ممالک میں نصف صدی سے بھی زائد عرصہ تک پائی جانے والی بد اعتمادی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں نے دہشت گردی روکنے جیسے دونوں ممالک میں دہشت گردی کی تشریح پر بھی واضح اختلاف رائے رہا ہے۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسند کارروائیوں کا پاکستان حامی رہا اور اُسے جہاد کہتا رہا ہے جبکہ ہندوستان ایسی کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی ذمہ داری بھی پاکستان پر عائد کرتا رہا ہے۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ انسداد دہشت گردی جیسے اہم موضوع پر تعاون کے لیے اگر تھوڑی پیش رفت بھی ہوتی ہے تو اس سے دونوں ممالک میں اعتماد سازی کے دیگر اقدامات کے لیے ایک مضبوط بنیاد حاصل ہو سکے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال غیر جانبدار ممالک کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر صدر جنرل مشرف اور وزیراعظم منموہن سنگھ کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ دونوں ممالک دہشگردی پر قابو پانے کے لیے ایک دوسرے سے خفیہ معلومات کا تبادلہ کریں گے۔ دونوں ممالک کشمیر سمیت تمام دیگر تصفیہ طلب مسائل پر بھی گزشتہ تین برسوں سے بات چیت کرتے رہے ہیں لیکن ابھی تک مذاکرات جاری رہنے کے علاوہ کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے گزشتہ روز ایک بریفنگ میں کہا تھا کہ پاکستان کو توقع ہے کہ بھارت سمجھوتہ ایکسپریس کے سانحے کے متعلق معلومات پاکستان کو مہیا کرے گا۔ | اسی بارے میں اسلام آباد: مذاکرات کا پہلا دور مکمل06 March, 2007 | پاکستان پاک، انڈیا: خفیہ معلومات کے تبادلے پر مذاکرات06 March, 2007 | پاکستان منموہن تجاویز کا زبردست خیر مقدم27 March, 2006 | پاکستان ’دہشت گردی سےنمٹا جائےگا‘18 January, 2007 | پاکستان منموہن کی امن معاہدے کی تجویز24 March, 2006 | پاکستان بھارت تعاون نہیں کر رہا: دفترِ خارجہ05 March, 2007 | پاکستان ’انڈیا ہمیں تفتیش سے آگاہ رکھے‘04 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||