BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 February, 2008, 19:28 GMT 00:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قیدی عورتوں اور بچوں کیلیے کمیٹی

سینیٹ
جیلوں میں خواتین کی حالت زار پر ایوانِ بالا میں بحث
سینیٹ یا ایوان بالا نے ملکی جیلوں میں قید خواتین اور بچوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کے لیے اراکین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو بیس اپریل تک ایوان میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

اس بات کا فیصلہ سینیٹ کے قائم مقام چئرمین جان محمد جمالی نے وقفہ سوالات کے دوران اپنی رولنگ میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹاسک فورس تمام جیلوں کے دورے کرنے کے بعد رپورٹ پیش کرے گی۔

جیلوں میں خواتین کی حالت زار پر ایوانِ بالا میں بحث سبینہ رؤف کے ایک سوال پر شروع ہوئی جس میں ایسی سزا یافتہ خواتین کی تعداد اور ان کے لیے قیدخانوں میں گنجائش کے بارے میں دریافت کیا گیا تھا۔

جیلیں صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے تاہم مجموعی طور پر ملک میں چار سو سینتیس خواتین جیلوں میں ہیں۔ پنجاب میں ان کی تعداد دو سو اکسٹھ ، سندھ میں بہّتر، سرحد میں ستتر، بلوچستان میں سترہ اور کشمیر میں ایک سزایافتہ عورت حوالات میں ہے

جیلوں میں عورتوں کی تعداد
 حامد نواز نے کہا کہ جیلیں صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے تاہم مجموعی طور پر ملک میں چار سو سینتیس خواتین جیلوں میں ہیں۔ پنجاب میں ان کی تعداد دو سو اکسٹھ ، سندھ میں بہّتر، سرحد میں ستتر، بلوچستان میں سترہ اور کشمیر میں ایک سزایافتہ عورت حوالات میں ہے۔
وزیر داخلہ حامد نواز

جیلوں میں خواتین کے لیے گنجائش کے بارے میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ سندھ میں تین مقامات پر لاڑکانہ، کراچی اور حیدرآباد میں خواتین کے لیے خصوصی جیلیں موجود ہیں جن میں قیدیوں کی گنجائش ساڑھے پانچ سو سے زائد ہے۔ تاہم سرحد اور بلوچستان سے اس بارے میں انہیں معلومات نہیں ملیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان خواتین کی بہبود کے لیے کئی فلاحی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں جن میں بہتر رہائشی سہولتیں، تعلیم کی فراہمی، دستکاری اور تفریحی سہولیات شامل ہیں۔

مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر اور سابق وزیر خالد رانجھا نے اس موقع پر حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کو نامکمل قرار دیا اور کہا کہ جیلوں میں حالات بہت دگرگوں ہیں۔

ایوان میں آج ایک نجی ٹی وی چینل جیو کے دفاتر پر پولیس کے گزشتہ برس اپریل میں حملے کی تحقیقات سے متعلق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ تاہم اس رپورٹ میں کسی پولیس اہلکار پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ہے۔

اپنی سکیورٹی کا خود انتظام کریں
 جیو ٹیلی ویژن پر مبینہ حملے کے بارے میں پیش کی گئی رپورٹ کی سفارشات میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کی خاطر تجویز دی ہے کہ امن عامہ سے متعلق حاکم کو موقع پر موجود ہونا چاہیے اور عمارت کے مالکان سے اپیل کہ وہ اپنی سکیورٹی کا خود انتظام کریں

مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کی خاطر رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ امن عامہ سے متعلق حکام کو موقع پر موجود ہونا چاہیے اور عمارت کے مالکان سے اپیل کہ وہ اپنی سکیورٹی کا خود انتظام کریں۔

البتہ معاوضے کے معاملے پر وزیر داخلہ حامد نواز نے کہا کہ اس کا تعلق ان کی وزارت سے نہیں لہذا وہ اس بابت کچھ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ انکوئری افسر نے رپورٹ دستیاب شواہد کی بنیاد پر تیار کی ہے کیونکہ اپیل کے باوجود لوگ اس سلسلے میں سامنے نہیں آئے۔

ایوان میں بیرون ملک گزشتہ چھ ماہ کے دوران ڈیپورٹ کیے جانے والے پاکستانیوں کی معلومات سے متعلق ایم ایم اے کی ڈاکٹر کوثر فردوس کے سوال کا جواب حکومت کی جانب سے پیش نہ ہونے پر کافی گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔

ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کئی اراکین نے نواب ذوالفقار مگسی کو صوبے کا نیا گورنر مقرر کرنے پر مسرت کا اظہار کیا۔ تاہم قائم مقام چیرمین نے پی ایم اے پی کے سینیٹر رضا خان کو یہ تجویز پیش کرنے نہیں دی کہ چونکہ صوبے کا گورنر بلوچ ہے تو وزیراعلیٰ پشتون ہونا چاہیے۔

قائم مقام چئرمین جان محمد جمالی نے کہا کہ وہ غریب آدمی ہیں لہذا اس اچھی خبر پر انہوں نے اپنے لوگوں میں ریوڑیاں بانٹنے کے لیے کہا ہے۔

ایوان میں ملکی سیاسی صورتحال پر بھی بحث کی گئی۔ ایک روز قبل سابق حکمراں اور سینیٹ میں اکثریتی جماعت مسلم لیگ (ق) میں ’ہم خیال‘ گروپ

نیلوفر بختیار کی مسلسل کھُسر پھُسر
 سینیٹ میں اکثریتی جماعت مسلم لیگ (ق) میں ’ہم خیال‘ گروپ بنانے والی نیلوفر بختیار پچھلی نشستوں پر کافی متحرک دکھائی دیں اور کئی اراکین سے مسلسل کھُسر پھُسر میں مصروف رہیں
بنانے والی نیلوفر بختیار پچھلی نشستوں پر کافی متحرک دکھائی دیں اور کئی اراکین سے مسلسل کھُسر پھُسر میں مصروف رہیں۔ تاہم ان کے ایک ساتھی نیشنل پیپلز پارٹی کے سینیٹر آصف جتوئی نے ابتداء میں ہی واضاحت کر دی کہ وہ اپنی جماعت کے ڈسپلن کے پابند ہیں۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد