قیدی عورتوں اور بچوں کیلیے کمیٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینیٹ یا ایوان بالا نے ملکی جیلوں میں قید خواتین اور بچوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کے لیے اراکین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو بیس اپریل تک ایوان میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس بات کا فیصلہ سینیٹ کے قائم مقام چئرمین جان محمد جمالی نے وقفہ سوالات کے دوران اپنی رولنگ میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹاسک فورس تمام جیلوں کے دورے کرنے کے بعد رپورٹ پیش کرے گی۔ جیلوں میں خواتین کی حالت زار پر ایوانِ بالا میں بحث سبینہ رؤف کے ایک سوال پر شروع ہوئی جس میں ایسی سزا یافتہ خواتین کی تعداد اور ان کے لیے قیدخانوں میں گنجائش کے بارے میں دریافت کیا گیا تھا۔ جیلیں صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے تاہم مجموعی طور پر ملک میں چار سو سینتیس خواتین جیلوں میں ہیں۔ پنجاب میں ان کی تعداد دو سو اکسٹھ ، سندھ میں بہّتر، سرحد میں ستتر، بلوچستان میں سترہ اور کشمیر میں ایک سزایافتہ عورت حوالات میں ہے
جیلوں میں خواتین کے لیے گنجائش کے بارے میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ سندھ میں تین مقامات پر لاڑکانہ، کراچی اور حیدرآباد میں خواتین کے لیے خصوصی جیلیں موجود ہیں جن میں قیدیوں کی گنجائش ساڑھے پانچ سو سے زائد ہے۔ تاہم سرحد اور بلوچستان سے اس بارے میں انہیں معلومات نہیں ملیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان خواتین کی بہبود کے لیے کئی فلاحی منصوبے مکمل کیے گئے ہیں جن میں بہتر رہائشی سہولتیں، تعلیم کی فراہمی، دستکاری اور تفریحی سہولیات شامل ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر اور سابق وزیر خالد رانجھا نے اس موقع پر حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کو نامکمل قرار دیا اور کہا کہ جیلوں میں حالات بہت دگرگوں ہیں۔ ایوان میں آج ایک نجی ٹی وی چینل جیو کے دفاتر پر پولیس کے گزشتہ برس اپریل میں حملے کی تحقیقات سے متعلق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ تاہم اس رپورٹ میں کسی پولیس اہلکار پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ہے۔
مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کی خاطر رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ امن عامہ سے متعلق حکام کو موقع پر موجود ہونا چاہیے اور عمارت کے مالکان سے اپیل کہ وہ اپنی سکیورٹی کا خود انتظام کریں۔ البتہ معاوضے کے معاملے پر وزیر داخلہ حامد نواز نے کہا کہ اس کا تعلق ان کی وزارت سے نہیں لہذا وہ اس بابت کچھ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ انکوئری افسر نے رپورٹ دستیاب شواہد کی بنیاد پر تیار کی ہے کیونکہ اپیل کے باوجود لوگ اس سلسلے میں سامنے نہیں آئے۔ ایوان میں بیرون ملک گزشتہ چھ ماہ کے دوران ڈیپورٹ کیے جانے والے پاکستانیوں کی معلومات سے متعلق ایم ایم اے کی ڈاکٹر کوثر فردوس کے سوال کا جواب حکومت کی جانب سے پیش نہ ہونے پر کافی گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کئی اراکین نے نواب ذوالفقار مگسی کو صوبے کا نیا گورنر مقرر کرنے پر مسرت کا اظہار کیا۔ تاہم قائم مقام چیرمین نے پی ایم اے پی کے سینیٹر رضا خان کو یہ تجویز پیش کرنے نہیں دی کہ چونکہ صوبے کا گورنر بلوچ ہے تو وزیراعلیٰ پشتون ہونا چاہیے۔ قائم مقام چئرمین جان محمد جمالی نے کہا کہ وہ غریب آدمی ہیں لہذا اس اچھی خبر پر انہوں نے اپنے لوگوں میں ریوڑیاں بانٹنے کے لیے کہا ہے۔ ایوان میں ملکی سیاسی صورتحال پر بھی بحث کی گئی۔ ایک روز قبل سابق حکمراں اور سینیٹ میں اکثریتی جماعت مسلم لیگ (ق) میں ’ہم خیال‘ گروپ
| اسی بارے میں انتخابی مہم: قائم مقام صدر پر پابندی23 January, 2008 | پاکستان امیر حسین، سومرو تقرریاں غیر آئینی22 January, 2008 | پاکستان ’انتخابی امیدوار صدر نہیں ہوسکتا‘21 January, 2008 | پاکستان اسلام آباد اراضی کی تحقیقاتی رپورٹ23 October, 2007 | پاکستان سینیٹ کی کارروائی پِھر ٹھپ18 May, 2007 | پاکستان کراچی ہلاکتیں، ایوانوں کا بائیکاٹ14 May, 2007 | پاکستان سینیٹ کےقواعد پرکمیٹی کی رپورٹ 21 February, 2007 | پاکستان سینیٹ: اپوزیشن کا علامتی واک آؤٹ17 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||