BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 August, 2007, 13:53 GMT 18:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
باقی باسٹھ قیدی بھی رہا کریں: پاکستان

ہندوستان نے چودہ اگست کو بہّتر پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا
حکومتِ پاکستان نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اعلان کے مطابق باقی باسٹھ قید پاکستانیوں کو بھی رہا کرے ۔

یہ مطالبہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے وزارتِ داخلہ کے ترجمان جاوید اقبال چیمہ نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کیا۔

انہوں نے حکومتِ ہندوستان کے اس دعوے کو رد کیا جس کے مطابق باسٹھ پاکستانیوں کو چودہ اگست کو اس لیے رہا نہیں کیا گیا کیونکہ حکومتِ پاکستان نے ان افراد کے پاکستانی ہونے کے بارے میں تصدیق نہیں کی تھی ۔

ہندوستان نے چودہ اگست کو جذبہ خیر سگالی کے طور پر کل بہتر قید پاکستانیوں کو رہا کیا جن میں اڑتالیس مچھیرے شامل تھے جنہیں ہندوستان کی سمندری حدود کی مبیینہ خلاف ورزی کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا جبکہ رہا کیے جانے والے باقی چوبیس پاکستانی دیگر جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے ہندوستان میں قید تھے ۔

دونوں ملکوں کے جشنِ آزادی کی مناسبت سے ان کی حکومتوں نے جذبہ خیر سگالی کے تحت ایک دوسرے کے گرفتار مچھیرے اور دیگر افراد کی رہائی کا اعلان کیا تھا جس کے تحت پاکستان نے اپنی جیلوں میں قید ایک سو چونتیس بھارتی قیدیوں کو رہا کیا جن میں جاوید اقبال چیمہ کے مطابق، سو مچھیرے اور چونتیس دیگر بھارتی شہری شامل تھے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے بھارت کی جانب سے بہّتر پاکستانیوں کی رہائی کے اقدام کی تعریف کرتے ہوۓ اس امید کا اظہار کیا ہے کہ جن باسٹھ افراد کی پاکستانی شہری ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے، انہیں بھی جلد رہا کردیا جاۓ گا ۔

جاوید اقبال چیمہ نے جنوبی وزیرستان میں گزشتہ ہفتہ اغوا کیے گئے جنوبی وزیرستان سکاؤٹ کے سولہ اہلکاروں میں سے زندہ پندرہ اہلکاروں کے بارے میں امید کا اظہار کیا کہ ان کو جلد ہی بازیاب کرالیا جاۓ گا۔

اسی بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ حکومت جنوبی وزیرستان کی پولیٹیکل انتظامیہ کے ذریعے اغواء کرنے والوں سے مغویوں کی رہائی کے لیے بات چیت کر رہی ہے جبکہ اس کے علاوہ علاقے کے عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ بھی اغواء کاروں سے بات چیت کر رہا ہے ۔

جب جاوید اقبال سے اغوا کنندگان کے مطالبات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اس امر سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں صوبہ سرحد کے گورنر کے سیکرٹریٹ سے معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں کیونکہ اس معاملے کو وہی دیکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد