سابق فوجیوں سے ملنے کی درخواست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکہتر کی جنگ میں لاپتہ بھارتی فوجیوں کے رشتہ داروں نے حکومت پاکستان سے اٹک قلعہ اور ذہنی امراض کے ہسپتالوں کے علاوہ پاکستانی فوج کے سابق افسران سے ملنے کی درخواست کی ہے۔ یہ مطالبہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ایسے پندرہ بھارتی فوجی افسران کے رشتہ داروں نے اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چھتیس سال سے پریشان ان رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس جو شواہد موجود ہیں ان کی وجہ سے انہیں یقین ہے کہ لاپتہ فوجی پاکستان میں ہیں۔ انہوں نے پاکستانی عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی معلومات ہوں تو بھارتی ہائی کمیشن سے رابطہ کریں۔ ایک لاپتہ فوجی اشوک سوری کے بھائی بھرت سوری کا کہنا تھا: ’ہمیں اپنے لوگ یہاں کی جیلوں میں نہیں مل رہے ہیں۔ ہمدردی کے رشتے کہ تحت ہماری بار بار گزارش ہے ہمارے لوگ یہاں ہیں۔ انہیں کسی بھی طرح سے معافی دے دی جائے۔ چھتیس برس کافی لمبا وقت ہوتا ہے۔‘ اس دورے سے اگرچہ اکثر رشتہ داروں کو تو ابھی تک کوئی فائدہ نہیں ہوا تاہم لاپتہ فوجی کیپٹن سری سنگ کے والد اجیت سنگ کا کہنا تھا کہ ایک سابق پاکستانی فوجی میجر ریٹائرڈ تنویر حسین سے ملاقات کے بعد انہیں تسلی ہوگئی ہے کہ ان کا بیٹا ہلاک ہوا تھا اور اسے عزت کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔ اخباری کانفرنس میں لاپتہ پندرہ فوجی افسران کی تصاویر ایک بورڈ پر آویزاں رکھی تھیں۔ وفد کے باقی ارکان ابھی بھی اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات کے لیئے سرگرداں ہیں۔ وفد کے سربراہ جے ایس گل نے صحافیوں کو اکہتر کے بعد کے کئی پاکستانی اور بھارتی اخبارات و رسائل دکھائے جن میں ان لاپتہ افراد کی تصاویر یا نام شائع ہوئے تھے۔ دو ایسے فوجیوں کے خطوط بھی دکھائے گئے جو کراچی سے ارسال کیئے گئے تھے۔
سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق ایک کتاب میں سے اقتباس بھی سنایا گیا جس میں بھٹو کے وکلاء کو یہ کہتے ہوئے بتایا گیا کہ بھٹو کو قید تنہائی میں بھارتی قیدیوں کی آوازیں سنائی گئی تھیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر ان لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کے رشتہ دار پاکستان میں موجود ہیں۔ اس وفد نے صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی درخواست دے رکھی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک انہیں جواب نہیں ملا۔ جے ایس گل کا کہنا تھا کہ صدر اور فوجی سربراہ ہونے کے ناطے جنرل پرویز مشرف ان کا مسئلہ حل کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی سابق پاکستانی افسران سے ملاقات جو بھارتی قیدیوں کی تفتیش یا واپسی میں ملوث تھے کافی مدد دے سکتی ہے۔ وفد کے ایک ناکام رکن اور لاپتہ فوجی کے بھائی کو آدھے دورے سے ہی واپس لوٹنا پڑا کیونکہ ان کے والد انتقال کر گئے۔ جے ایس گل کا کہنا تھا کہ سولین جیلوں میں انہیں معلومات نہیں ملیں لہذا وہ توقع کرتے ہیں کہ پاکستان انہیں دیگر جیلوں اور ذہنی امراض کے ہسپتال کا دورہ کرنے کی بھی اجازت دے۔ ’ جنگ کی حالت میں فوجیوں کا ذہنی توازن درست نہیں رہتا اور ہو سکتا ہے انہوں نے غلط نام بتایا ہو جس کی وجہ سے ان کی شناخت نہیں ہو پا رہی ہو۔‘ یہ وفد اب تک چھ پاکستانی جیلوں کا دورہ کرچکے ہیں جن میں انہیں کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ اب یہ صوبہ سرحد میں واقع درگئی اور صوابی کی جیلوں کا رخ کرنے کے بعد واپس جائیں گے۔ |
اسی بارے میں لاپتہ بھارتی جنگی قیدیوں کی تلاش02 June, 2007 | پاکستان ’فوج لاپتہ فوجیوں کو تلاش کرے‘13 March, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||