BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 July, 2007, 12:22 GMT 17:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت نے مزید مہلت مانگ لی

فائل فوٹو
ہندوستان کی جیلوں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے متعدد ایسے قیدی موجود ہیں جو اپنی سزائیں پوری کر چکے ہیں
ہندوستان کی مرکزی حکومت نے ہندوستان کی جیلوں میں قید ان پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے مزید مہلت مانگی ہے جو اپنی سزائیں کاٹنے کے بعد بھی قید میں ہیں۔

سپریم کورٹ نے کشمیر کی ایک غیر سرکاری تنظیم اسسٹنٹ لیگل ایڈ کمیٹی کی طرف سے حبسِ بیجا کی ایک درخواست کی سماعت کے بعد اپریل میں یہ حکم دیا تھا کہ ایسے تمام پاکستانی قیدیوں کو فوراً ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے جو اپنی سزائیں پوری کر چکے ہیں۔

عدالت نے یہ حکم بھی دیا تھا کہ وہ سبھی قیدی رہا کیے جائیں جن کا مقدمہ ابھی شروع نہیں ہوا ہے لیکن جو اپنے مبینہ جرم کی مقررہ سزا کاٹ چکے ہیں۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھاکہ جن پاکستانی قیدیوں کا مقدمہ نہیں ہوا ہے، ان کا مقدمہ شروع کیا جائے۔

مرکزی حکومت نے منگل کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ اس سلسلے میں قیدیوں کی تفصیلات تیار کر رہی ہے اور اسے اس کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ عدالت عظمیٰ نے حکومت کو مزید چار ماہ کی مہلت دی ہے۔

اسسٹنٹ لیگل ایڈ کمیٹی کی نمائندگی کرنے والےسپریم کورٹ کے وکیل بلونت سنگھ بلوریا نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس مرحلے پر ایسے قیدیوں کی صحیح تعداد بتانا مشکل ہے تاہم ان کی تعداد سو سے زیادہ ہے۔

مسٹر بلونت سنگھ بلوریا کے مطابق ان میں سے زیادہ تر ’جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ‘ کے تحت گرفتار ہوئے ہیں اور ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔ ان میں سے بیشتر وہ ہیں جو بھٹک کر یا دانستہ طور پر کنٹرول لائن پارکرتے ہوئے پکڑے گئے جبکہ متعدد قیدی ایسے ہیں جنہیں دہشت گردی کے مقدمات میں سزائیں ہوئی ہیں۔

مسٹر بلوریا نے بتایا کہ اسسٹنٹ لیگل ایڈ کمیٹی نے دو درخواستیں داخل کی تھی۔ دوسری درخواست کی سماعت بیس جولائی کو ہوگی۔ وہ درخواست بھی پاکستانی قیدیوں کے سلسلے میں ہے۔

ہندوستان کی جیلوں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے متعدد ایسے قیدی موجود ہیں جو اپنی سزائیں پوری کر چکے ہیں۔ ان کی رہائی عموماً ہندوستان اور پاکستان کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے باہمی معاہدے کے تحت ہی عمل میں آتی ہے۔

تہاڑ جیلچھ ہلاکتوں کے بعد
تہاڑ سے 627 قیدیوں کو رہا کر دیا گیا
پاکستانی جیلپاکستانی جیلوں میں
35 سال بعد بھارتی جنگی قیدیوں کی تلاش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد