قیدیوں اور جیلوں کی اصلاح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار کی مختلف جیلوں میں سینکڑوں ایسے قیدی موجود ہیں جن پر عائد الزام ثابت ہونے سے پہلے ہی وہ ممکنہ سزا کی آدھی سے زیادہ مدت جیل میں گزار چکے ہیں۔ لیکن اب ریاستی حکومت ایسے افراد کو جن کی عمر 65 سال سے زیادہ ہے یا پھر جو ، چھوٹے موٹے جرم کی وجہ سے قید ہیں، جیل سے رہا کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ ریاستی جیل کے انسپکٹر جنرل سندیپ پونڈریک نے بتایا کہ یہ قدم ، جیلوں میں قیدیوں کی ضرورت سے زیادہ تعداد کو کم کرنے اور وزیر اعلیٰ کی اس ہدایت کے تحت اٹھایا گیا ہے جس میں قیدوں کے ساتھ ہمدرادانہ رویہ اختیار کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ مسٹر پونڈریک نے بتایا ’جیلوں میں قیدیوں کی تعداد کم کرنے کی غرض سے تین باتیں طے کی گئی ہیں‘۔ ان کے مطابق جو قیدی 65 سال کی عمر پار کر چکے ہیں اور انہیں سزائے موت نہیں سنائی گئی ہو انہیں رہا کر دیا جائے۔ایسے قیدیوں کی تعداد تقریباً سات سو ہے۔
دوسرے یہ کہ جن ملزمان نے اپنی ممکنہ سزا کی آدھی مدت جیل میں بنا کسی بے ضابطگی کے گزاری ہو، انہیں رہا کیا جائے۔ اس طرح کے قریب چار سو قیدیوں کو حال ہی میں رہا بھی کیا گیا ہے۔ یہ کوشش بھی ہو رہی ہے کہ ہائی کورٹ سے ان قیدیوں کو رہا کرنے کی اجازت طلب کی جائے جن پر ایسے الزمات عائد ہیں جن کے لیے تین سال سے کم کی سزا ہے۔ مسٹر پونڈریک کا کہنا تھا ’ریاستی حکومت زیر سماعت مذکورہ قیدیوں کو جیل سے ضمانت پر رہا کرنے کے لیے عدالت سے خود درخواست کرےگی لیکن ان کے خلاف مقدمے جاری رہیں گے‘۔ مسٹر پونڈریک نے ریاست کے تمام جیل سپرینٹینڈینٹ کو یہ ہدایت دی ہے کہ ان قیدیوں کی تفصیلات تیار کریں جو چھوٹے موٹے جرم کے الزام میں ممکنہ سزا کی آدھی یا اس سے زائد مدت جیلوں میں کاٹ چکے ہیں۔ مسٹر پونڈریک کے مطابق ریاست کی 54 جیلوں میں 21 ہزار قیدیوں کو رکھنے کی جگہ ہے لیکن فی الوقت تقریباً 42 ہزار قیدی ان جیلوں میں بند ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے تقریباً سات ہزار قیدی ہی ایسے ہیں جو سزا یافتہ ہیں۔ گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کی وجہ سے جیلوں میں قیدیوں کے درمیان اکثر مارپیٹ کے واقعات رو نما ہوتے رہتے ہیں۔ اکثر قیدیوں کو آرام سے سونے کی جگہ بھی نہیں مل پاتی۔ قیدیوں کے لیے صحت اور صفائی کا انتظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ان جیلوں میں اگر کوئی قیدی بیمار پڑ جائے تو اس کا بروقت علاج بھی کئی بار ممکن نہیں ہو پاتا ہے۔ قیدیوں کو بیت الخلا جیسی بنیادی سہولت کے لیے سخت پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔ | اسی بارے میں دس سال کی تنخواہیں دینے کا حکم09.05.2003 | صفحۂ اول علمی ورثے کی عملی جنگ16.02.2003 | صفحۂ اول بہار: طبقات کی لڑائی میں چھ ہلاک26.10.2002 | صفحۂ اول ’بہاری نہ کھپن‘ ؟29.07.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||