BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 June, 2007, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تہاڑ سے 627 قیدیوں کی رہائی

تہاڑ جیل کے افسر برائے تعلقاتِ عامہ کے افسر کا دفتر
تہاڑ جیل کے افسر برائے تعلقاتِ عامہ کے افسرسنیل کمار گپتا کا دفتر
بھارتی دارالحکومت دلی میں واقع ملک کی سب سے بڑی، تہاڑ جیل سے 627 قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ قیدیوں کی رہائی دلی ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ جیل میں گنجائش تعداد سے زیادہ قیدی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ غیر انسانی حالات میں رہتے ہیں اس لیے معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کو جلد رہا کر دیا جائے۔

گزشتہ دنوں دلی اور ملک کے شمالی خطے میں زبردست گرمی پڑی۔ دلی میں گرمی کا سب سے زیادہ اثر تہاڑ جیل میں دیکھنے کو ملا جہاں ایک ہفتے میں چھ قیدی ہلاک ہو گئے۔ قیدیوں کی اموات کے پیش نظر ہائی کورٹ کی طرف سے قائم کی گئی کمیٹی نے بتایا کہ جیل میں مقررہ تعداد سے دوگنے قیدی ہونے کےسبب قیدی انتہائی غیر انسانی حالات میں رہتے ہیں۔

کمیٹی کی سفارشات پر دلی ہائی کورٹ نے تہاڑ جیل کو ان چھ سو سے زیادہ قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا جو معمولی جرائم میں سزا کاٹ رہے تھے یا جن کی ضمانت ہو چکی تھی لیکن ان کے پاس ضمانت کے لیے پیسے نہیں تھی۔

تہاڑ جیل کے ترجمان سنیل کمار گپتا نے بتایا ’رہا کیے جانے والے قیدیوں میں چار خواتین اور بیشتر نوجوان مرد تھے۔ قیدیوں کو رہا کرنے سے پہلے جیل حکام نے ان سے ایک مچلکے پر دستخط کرائے جس کے تحت انہیں روزانہ صبح و شام مقامی تھانے میں حاضری کا پابند کیا گیا ہے‘۔

تہاڑ جیل میں تقریباً چھ ہزار قیدیوں کی جگہ ہے لیکن اس وقت اس میں تیرہ ہزار سے زیادہ قیدی ہیں۔

تہاڑ جیل کے ترجمان سنیل کمار گپتا
جیل کے ترجمان کے مطابق تہاڑ جیل میں گنجائش زیادہ قیدی ہیں

ہائی کورٹ کی طرف سے تشکیل کردہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ جیل میں قیدیوں کے لیے پینے کا پانی اور بجلی کی سہولتیں ناکافی ہیں اور گرمی میں وہ انتہائی بری حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔

سنیل کمار گپتا کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی حالت بہتر کرنے کے لیے حکومت مزید جیلیں تعمیر کر رہی ہے اور تہاڑ میں پانی اور بجلی کی سہولتوں کو بہتر بنایا جارہا ہے۔

جیل حکام کا کہنا ہے کہ جیل میں اسی فی صد سے زائد ایسے قیدی ہیں جن کے مقدمات زیر سماعت ہیں اور ان کے مقدمات کی سماعت کا عمل تیز کر کے جیل میں تعداد سے زیادہ قیدیوں کی پریشانی سے بچا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے حکومت کو بڑی سطح پر اقدامات کرنے ہونگے۔

قیدیوں کے بہتری کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ جیل میں قیدی غیر انسانی حالت میں رہتے ہیں اور حکومت ان کی حالت بہتر بنانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
بارش اور گرمی کا قہر
07 July, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد