’قانون ملاقاتیں نہیں روک سکتا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے غیر ملکی سفارتکاروں سے کہا ہے کہ وہ سیاستدانوں سے ملاقاتوں کے دوران سفارتی تقاضوں اور آداب کی پاسداری کریں اور کوئی ایسا بیان دینے سے گزیر کریں جو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور ہو۔ تاہم دفترخارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کہا کہ پاکستان میں کوئی ایسا قانون نہیں جو ان ملاقاتوں کو روک کر سکے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے کہا ہے کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو یہاں کے سیاستدانوں، صحافیوں اور شہریوں کی غیر ملکی سفارتکاروں سے ملاقاتوں کو ممنوع قرار دے سکے۔ بدھ کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہ غیر ملکی سفارت کاروں کی سیاستدانوں کے ساتھ تواتر سے ملاقاتیں سفارتی آداب کے خلاف نہیں، انہوں نے کہا کے سفارتکاروں کے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتوں پر کوئی پابندی نہیں اور نہ ہی یہ غیر قانونی ہیں لیکن ان کی جانب سے ملک کے اندرونی معاملات پر منبی کوئی بھی بیان سفارتی آداب کے منافی ہے۔ قیدیوں سے متعلق پاک بھارت مذاکرات کے بارے میں ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ پاکستانی اور بھارتی مشترکہ جوڈیشل کمیٹی نے دونوں حکومتوں کو تجویز دی ہے کہ اکتیس مارچ تک دونوں ممالک کی جیلوں میں موجود قیدیوں کی مکمل اور ٹھوس فہرستوں کا تبادلہ کیا جائے۔
اس کے علاوہ وہ قیدی جو اپنی سزا پوری کر چکے ہیں اور ان کی قومی شناخت کی تصدیق کی جا چکی ہے رہا کر دیے جائیں، خواتین، معذور افراد اور بچوں کی واپسی کے لیے انسانی بنیادوں پر خصوصی مراعات دی جائیں، دونوں ممالک کے درمیان باہمی رضامندی کے تحت وہ مچھیرے جو قومی تحویل میں ہیں اور جن کی قومی شناخت کی جا چکی ہے رہا کر دیے جائیں اور باقی ماندہ کیسز میں کونسلر تک ان کی رسائی اکتیس مارچ دو ہزار آٹھ تک ممکن بنائی جائے۔ کمیٹی اس بات پر بھی رضامند ہوئی ہے کہ سفارتی سطح پر اپریل میں پاکستان کی جیلوں کا معائنہ کیا جائے گا اور پھر اس کے بعد بھارت کی جیلوں کا معائنہ بھی کیا جائے گا۔ قیدیوں کی تعداد سے متعلق ایک سوال کے جواب پر انہوں نے بتایا کے اس وقت ساڑھے چار سو کے قریب پاکستانی قیدی بھارتی جیلوں میں اور تقریباً پانچ سو کے قریب بھارتی قیدی پاکستان کی جیلوں میں قید ہیں۔ ان کے جرائم معمولی نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے سن دوہزار تین سے اب تک دو ہزار چھ سو ستاون بھارتی قیدیوں کو جبکہ بھارت نے آٹھ سو ستائیس پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا ہے۔ پاک بھارت مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا عمل جاری ہے اور اب چوتھے مرحلے کے اختتام کے بعد اس کے جائزے اور پھر پانچویں مرحلے کو شروع کرنے کے لیے سفارتی سطح پر تاریخیں مقرر کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی سفیر طارق عزیز الدین کے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ فی الحال ان کے بارے میں کوئی اطلاعات نہیں ہیں لیکن ان کی محفوظ بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
خارجہ امور کے لیے امریکی سینیٹ کی کمیٹی کے چئرمین جوزف بائڈن کے کچھ بیانات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان کا جو خرچہ ہوا ہے اس کی کچھ رقم ابھی امریکہ کے ذمے ہے جو ابھی تک پاکستان کو نہیں ملی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے کسی بھی ائر بیس پر امریکی بغیر پائلٹ کے جہاز موجود نہیں ہیں۔ کوسوو کو تسلیم کرنے کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ کوسوو کی حمایت کی ہے اور اب اس کو تسلیم کرنے کے مسئلے پر او آئی سی اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں کیونکہ کسی ملک کی شناخت ایک آئینی مسئلہ ہے۔ | اسی بارے میں پابندیاں ختم کی جائیں: امریکی سفیر19 November, 2007 | پاکستان پاکستان: ڈنمارک کا سفیر وطن واپس 19 February, 2006 | پاکستان کارٹون: نو سفیروں کی طلبی04 February, 2006 | پاکستان بھارت تعاون نہیں کر رہا: دفترِ خارجہ05 March, 2007 | پاکستان ڈکٹیشن نہیں لیں گے: دفترِ خارجہ26 February, 2007 | پاکستان ڈکی چینی کا پاکستان کا اچانک دورہ26 February, 2007 | پاکستان دفترِ خارجہ: انڈین احتجاج مسترد08 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||