دفترِ خارجہ: انڈین احتجاج مسترد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے اپنے زیرانتظام شمالی علاقہ جات میں آبی ذخیرے کے لیے دریائے سندھ پر مجوزہ بھاشا ڈیم پر بھارت کے اعتراضات کو مسترد کردیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بدھ کی شام ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان یہ ڈیم اپنے آبی وسائل کی پالیسی کے تحت مقامی آبادی کی فلاح اور بہتری کے لیے تعمیر کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ انڈیا نے حکومتِ پاکستان سے بھاشا ڈیم کی مجوزہ تعمیر کے خلاف سفارتی سطح پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے اعتراضات حکومت پاکستان کے حوالے کیے ہیں۔ بھارتی وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے یہ ڈیم ایک ایسے علاقے میں تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے ’جو جموں و کشمیر کا حصہ ہے اور جو 1947 کے الحاق کے نتیجے میں ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے‘۔ اس بیان میں ذرائع ابلاغ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مجوزہ ڈیم کے پانی کے ذخیرے سے ’ریاست جموں و کشمیر‘ کے شمال کا ایک بڑا علاقہ زیر آب جائے گا۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ہندوستان کی حکو مت نے اس ڈیم کے منصوبے کے اعلان کے کئی مہینے بعد کیوں احتجاج کیا ہے۔ پاکستان حکومت کا کہنا ہے کہ جموں اور کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس کی یہ حیثیت انیس سو اڑتالیس سے چلی آرہی ہے اور تاحال تبدیل نہیں ہوئی۔ دفتر خارجہ کی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ معاملات طے کرنے کےلیئے کئی دوطرفہ معاہدے موجود ہیں اور ان کے تحت ان دنوں دونوں ممالک میں جامع مذاکرات بھی جاری ہیں۔
اس مجوزہ ڈیم کے متعلق کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما امان اللہ خان اور ان کی جماعت بھی احتجاج کر رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ پاکستان حکومت متنازعہ علاقے میں ڈیم تعمیر نہیں کرسکتا۔ اس ڈیم کی تعمیر کے خلاف دیامیر ضلع میں مقامی افراد نے ایک کمیٹی بھی بنائی ہے۔ امان اللہ خان کو احتجاج کرنے کے بعد جیل میں بند کردیا گیا تھا اور وہ گزشتہ ہفتے رہا ہوئے ہیں۔ ان کا یہ مطالبہ بھی رہا ہے کہ ایک تو اس ڈیم کی سائیٹ شمالی علاقہ جات میں ہے اور اس کی رائلٹی بھی صوبہ سرحد کے بجائے شمالی علاقہ جات کو ملنی چاہیے اور اس کا نام بھی بھاشا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس ڈیم کی کھل کر اس وقت مخالفت شروع کردی جب صدر جنرل پرویز مشرف نے حکمران مسلم لیگ کے رہنماوں کی جانب سے مخالفت کے بعد دریائے سندھ پر کالا باغ ڈیم بنانے کاارادہ ترک کیا اور پہلے بھاشا ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا۔ اس ڈیم کی پہلے تو مقامی سطح پر مخالفت کی جارہی تھی لیکن اب بھارت نے بھی اس کی مخالفت کرنا شروع کردی ہے۔ جس سے یہ منصوبہ بھی متنازعہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ مقامی اخبارات نے خبریں شائع کی ہیں کہ بدھ کے روز صدر جنرل پرویز مشرف اس ڈیم کا افتتاح کریں گے لیکن تاحال ایسا نہیں ہوا۔ | اسی بارے میں بھاشا ڈیم: نام اور رائلٹی پر تنازعہ28 January, 2006 | پاکستان دریائےسندھ پر ڈیمز کے خلاف احتجاج18 January, 2006 | پاکستان ڈیم تو بنیں گے: مشرف02 March, 2005 | پاکستان قوم پرستوں کو بھاشا بھی نامنظور17 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||