BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 November, 2007, 22:04 GMT 03:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پابندیاں ختم کی جائیں: امریکی سفیر

امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن
امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے پیر کی شام جیو ٹی وی کے دفاتر کا دورہ کیا
امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے پیر کی شام جیو ٹی وی کے دفاتر کا دورہ کیا اور حکومت کی جانب سے میڈیا پر لگائی گئی پابندیوں پر تشویش ظاہر کی۔

اس دوران لندن میں جیو یورپ کے عامر غوری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوبئی سے ہر گھنٹے بعد پانچ منٹ کا بلیٹن نشر کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن ان کا ادارہ ایسا متبادل مقام منتخب کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں سے نشریات پھر سے شروع کی جا سکیں۔

انہوں نے حالات کے پیش نظر زیر غور مقامات کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اڑتالیس گھنٹے اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ میڈیا پر عائد کی گئی پابندیوں کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ دورے کے دوران انہوں نے میڈیا پر سرکاری پابندیوں کے حوالے سے کہا کہ اس انداز کے انتہائی اور نامناسب اقدامات پاکستان کے مفاد میں نہیں ہیں۔

انہوں نے جیو ٹی وی کے ایڈیٹوریل اور منیجمنٹ سٹاف سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف آزادیِ اظہار اور آزادیِ صحافت کے لئے ایک مسئلہ ہیں بلکہ یہ ایک خبر رساں ادارے کو معاشی سزا دینے کے بھی مترادف ہیں۔

جیو نشریات کے لیے متبادل مقام
 دوبئی سے ہر گھنٹے بعد پانچ منٹ کا بلیٹن نشر کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن ان کا ادارہ ایسا متبادل مقام منتخب کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں سے نشریات پھر سے شروع کی جا سکیں
عامر غوری

امریکی سفیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پابندیاں فی الفور ختم کرکے براڈکاسٹرز کو اپنی نشریات شروع کرنے کی اجازت دی جائے۔

دوسری جانب ملک کے مختلف شہروں میں پیر کو بھی صحافیوں نے میڈیا پر پابندیوں کے خلاف احتجاج جاری رکھا۔ اسلام آباد میں جیو ٹی وی کے دفتر کے سامنے صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں جماعتِ اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے شرکت کر کے صحافیوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

واضح رہے کہ تین نومبر کو ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے ملک بھر میں کیبل پر نشر ہونے والے تقریباً تمام نیوز چینل بند کردیےگئے تھے۔ حکومت نے کہا تھا کہ یہ چینل سرکاری طور پر نافذ کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے تھے تاہم بارہ نومبر سے چند ٹی وی چینلز کی نشریات کو کھول دیا گیا تھا جنہوں نے حکومت کی شرائط کو تسلیم کرلیا تھا۔ البتہ جیو اور اے آر وائی چینلز کی نشریات پر سولہ نومبر کی رات کو دبئی کی حکومت کے ذریعے مکمل پابندی لگا دی گئی۔

اسی بارے میں
میڈیا پر پابندیاں مزید سخت
03 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد