کشمیر: مشرف حامی سیاست کو دھچکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے انتخابات میں صدر پرویز مشرف کے حامیوں کی شکست کے ساتھ ہی ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی اقتدار پسند سیاسی قوتوں نے پرویزمشرف کی حمایت سے دامن جھاڑنا شروع کر دیا ہے۔ علیٰحدگی پسندوں میں سے پاکستانی صدر کے سب سے زیادہ مخالف سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ انتخابی نتائج نے مشرف کی کشمیر پالیسی کو مسترد کردیا۔ اس حوالے سے دو بڑی اقتدار پسند سیاسی جماعتوں نے متضاد مؤقف اختیار کیا ہے۔ کافی عرصہ سے کشمیر تصفیہ کے بارے میں مشرف فارمولہ کی محتاط توثیق کرنے والے ہندوستان کے سابق وزیر داخلہ محمد سعید سمجھتے ہیں کہ نئی حکومت امن عمل کو آگے لے جائے گی جبکہ دوسری جانب ہندوستان کے سابق جونیئر وزیرخارجہ اور پاکستان میں مشرف سے ذاتی ملاقات کر نے والے واحد ہند نواز لیڈر عمر عبداللہ کہتے ہیں کہ نئی دلّی نے سنہری موقع گنوا دیا ہے۔ مفتی سعید فی الوقت ریاست میں حکمراں اتحاد میں اقتدار کے شریک ہیں جبکہ عمرعبداللہ اپوزیشن نیشنل کے صدر اور بھارتی پارلیمنٹ میں رکن ہیں۔
کئی سال تک مشرف کو امن کی آخری اُمید سمجھنے والے مفتی محمد سعید نے کہا ہے کہ ’پاکستان کے انتخابات میں انتہاپسندی کی ہار اور اعتدال پسندی کی جیت ہوئی ہے اور فاتح قوتیں استحکام کا باعث بنیں گی۔‘ جموں میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نےکہا کہ نئی حکومت ہندوستان کے ساتھ جاری امن عمل کو آگے بڑھائے گی۔ دلچسپ امر ہے کہ مفتی محمد سعید نے چند سال قبل وادی کے تجارتی مرکز لالچوک میں ہندوستانی وزیراعظم ڈاکٹر منموہن کے ہمراہ پرویز مشرف کی، جو اُس وقت آرمی چیف بھی تھے، بہت بڑی تصویر لگانے کا اہتمام کروایا تھا۔ انہوں نے کشمیر کے متبادل حل سے متعلق مشرف کے ہی چارنکاتی فارمولہ سے ملتاجلتا’سیلف رول‘ کا تصور اپنی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی کا بنیادی سیاسی مؤقف بنایا۔ تاہم عمر عبداللہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے ’مشرف کے سین سے ہٹ جانے کے بعد مسئلہ کشمیر سے متعلق کسی پیش رفت کی امید نہیں ہے۔‘ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ مشرف کے ساتھ کشمیر معاملے پر ڈیل نہ کرکے ہندوستان نے ایک سنہری موقع گنوا دیا ہے۔ مسٹر عبداللہ دو ہزار چھ میں پاکستان گئے تھے جہاں انہوں نے صدر مشرف سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان سے لوٹتے ہی میں نے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات کی اور کہا کہ ہمیں موقع کا فائدہ اُٹھا کر مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے مشرف کی تجاویز پر آگے بڑھنا چاہیئے۔‘
عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ دو ہزار پانچ میں ہلاکت خیز زلزلے سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں اسی ہزار جانیں تلف ہونے کے بعد امداد باہمی کا جذبہ نمایاں تھا اور دونوں ملکوں نے کشمیر کے دونوں حصوں پر کئی رابطہ مراکز قائم کیے تھے۔ ان کا کہنا ہے’اٹھارہ فروی کے انتخابات جو نتائج سامنے لائے ہیں ، مجھے نہیں لگتا اب مسئلہ کشمیر کوئی ترجیح ہوگا۔‘ اس دوران سید علی گیلانی جو مشرف کے متبادل حل والے مؤقف کے خلاف رہے ہیں کا کہنا ہے کہ ’جنرل مشرف، بینظیر بھٹو اور نواز شریف ماضی میں اپنے اپنے دور اقتدار کے دوران کشمیر پالیسی میں لچک دکھاتے رہے۔ لیکن مجھے امید ہے کہ ان کی سوچ میں تبدیلی آئے گی۔‘ مبصرین کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کی سیاسی شکست سے کشمیر میں پچھلے چار سال سے جاری امن رجحان کو دھچکہ پہنچا ہے۔ ریٹائرڈ ہیڈماسٹر غلام محمد خان کا کہنا ہے ’ہندنواز سیاسی قوتیں دراصل مشرف کا واسطہ دے کر کشمیریوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہی تھیں کہ اب پاکستان بھی مفاہمت پر آمادہ ہے۔ اب ان کی کون سنے گا۔ نئی حکومت کی نئی مجبوریاں ہونگی۔‘ |
اسی بارے میں کشمیر 2006 :فارمولوں،مظاہروں اور لچک کا سال24 December, 2006 | انڈیا پاک و ہند تعلقات: نشیب و فراز کا سال24 December, 2006 | انڈیا ’کشمیر سےدس ہزار افراد لاپتہ‘ 28 October, 2006 | انڈیا علیحدگی میں بات کریں: میر واعظ22 May, 2006 | انڈیا کشمیر: دو دن میں پینتیس ہندو قتل01 May, 2006 | انڈیا امن کی سرحدیں 14 June, 2005 | انڈیا مشرف فارمولہ: خیر مقدم اور تنقید26 October, 2004 | انڈیا کشمیر دھماکہ: تینتیس افرادہلاک23 May, 2004 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||