کشمیر دھماکہ: تینتیس افرادہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک دھماکے میں بس کے تباہ ہوجانے سے پندرہ فوجیوں سمیت تینتیس افراد ہلاک اور کم از کم پندرہ زخمی ہو گئے ہیں۔ دھماکے میں تباہ ہونے والی بس سری نگر سے جموں جانے والی بڑی شاہراہ پر ایک فوجی قافلے کے ساتھ فوجیوں اور ان کے اہل خانہ کو لے کر جارہی تھی۔ ہلاک ہونے والوں میں باڈر سیکورٹی فورس کے پندرہ اہلکار، ان کے خاندان کے افراد اور تین بچے شامل تھے۔ دھماکہ پولیس کے مطابق سری نگر سے پچھتر کلو میٹر کے فاصلے پر منڈا کے مقام پر ہوا۔ دھماکے کے بعد بس میں آگ لگ گئی۔ دھماکے کے بعد شاہراہ کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق دھماکہ ایک بارودی سرنگ کی وجہ سے ہوا جسے شدت پسندوں نے سڑک کے کنارے نصب کیا تھا۔
شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور کہا ہے کہ یہ حملہ حال ہیں میں ہلاک ہونے والے تنظیم کے مرکزی رہنماؤں کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس بارودی سرنگ کو ایک ریموٹ کنٹرول کے ذریعے فوجی قافلے کے پہنچتے ہی اڑا دیا گیا۔ دھماکے کی وجہ سے بس کی ٹینکی بھی پھٹ گئی اور ہلاک ہونے والوں کی نعشیں جھلس گئیں۔ دھماکے کی اطلاع ملتے ہیں فوجی ہیلی کاپٹروں کو زخمیوں کو ہسپتالوں تک لئے جانے کے لیے روانہ کر دیاگیا۔ دھماکے کی شدت سے کہ فوجی قافلے میں شامل ایک بس عقب میں آنے والی ایک مسافر بس سے ٹکرا گئی جس کی وجہ سے تین افراد زخمی ہو گئے۔ اس ماہ کے شروع میں پولیس نے شکیل احمد بٹ جو کے شکیل انصاری کے نام سے مشہور تھے اور حزب المجاہدین کے ڈویژنل کمانڈر بھی تھے کو ایک جھڑپ میں ہلاک کر دیا تھا۔ اسی ہفتے حزب مجاہدین کے ایک اور رہنما عبدالرشید المعروف غازی شھاب الدین کو بھی ہلاک کر دیاگیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||