زرداری کے بیان پر کشمیری ناراض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کے مسئلہ کشمیر سے متعلق حالیہ بیان پر ہندوستان کے زیرانتطام کشمیر کے سیاسی و عوامی حلقوں نے سخت غم و غصہ کااظہار کیا ہے۔ بعض علیٰحدگی پسند جماعتوں نے عوام سے احتجاجی مہم چلانے کی اپیل کی ہے۔ پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں مقیم مسلح جماعتوں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل نے بھی زرداری کے بیان پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ زرداری نے ایک ہندوستانی ٹی وی چینل کو دیئے انٹرویو میں بتایا ہے ’ تنازعہ کشمیر کا حل نئی نسل پر چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ نوجوان تجارت اور معاشی ترقی کی وساطت سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان رشتے استوار کروانے کا باعث بنیں گے۔‘ سینئیر علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے بی بی سی کو نئی دلّی سے فون پر بتایا’ زرداری کے بیان سے کشمیر کاز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ پاکستانی عوام اس مسئلہ کو ہندوستان کی جارحیت کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ وہاں کے لوگ تو کشمیریوں کے حقوق کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں۔ یہ بیان ہماری ہی دل آزاری نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کے تذلیل کرنے کے مترادف ہے ۔‘ ان کا مزید کہنا تھا’زرداری صاحب کو یاد ہونا چاہیے کہ کشمیر کی خاطر پاکستان نے جنگیں لڑیں ہیں اور پاکستانی عوام آج بھی کشمیریوں کی آزادی کے لئے جان دے رہے ہیں۔‘ لبریشن فرنٹ رہنما محمد یٰسین ملک، حریت قائد شبیر احمد شاہ اور دیگر علیحدگی پسندوں نے بھی کم و بیش ایسے ہی جذبات کا اظہارکیا ہے۔
ہندنواز کیمپ میں سے حکمران اتحاد کی دو بڑی پارٹیوں نے الگ الگ مؤقف اختیار کیا۔ کانگریس نے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے بدلتے حالات پاکستانی قیادت کی مثبت سوچ کا مظہر بتایا ہے جبکہ حکومت میں کانگریس کی شریک پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے خاموشی اختیار کرلی۔ تاہم نیشنل کانفرنس نے محتاط ردعمل میں زرداری کے بیان کو عجلت پسندی سے تعبیر کیا۔ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر علی محمد ساگر نے کہا ہے ’ ابھی تو زرداری کا بیان کوئی وزن نہیں رکھتا، البتہ دیکھنا ہوگا کہ اگر وہ حکومت بناتے ہیں تو اس کے بعد مسئلہ کشمیر کے تیئں ان کا کیا رویہ ہوگا۔‘ مقامی اخباروں میں عام لوگوں نے بھی اس حوالے سے اپنے تاثرات درج کروائے ہیں جن میں آصف زرداری کو غیر متعلق سیاسی شخصیت کہا گیا ہے۔ ایک معمر شہری ، محمد رمضان بیگ، نے بی بی سی کوبتایا’ذولفقار علی بھٹو صاحب نے تو کہا تھا کہ اگر ایک ہزار سال تک بھی جنگ لڑنا پڑے تو کشمیرپر کوئی سودابازی نہیں ہوگی۔ یہی بات ان کی بیٹی بے نظیر نے بھی اقتدار میں آنے کے بعد دوہرائی ۔ یہ زرداری کا بیان میری سمجھ میں نہیں آیا، یہ تو اپنی ہی پارٹی سے غداری ہے۔‘
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ زرداری کا بیان سیاسی بچپنے کا نتیجہ ہوسکتا ہے اوریہ ضروری نہیں کہ پاکستانی ایشٹیبلشمنٹ کی بھی یہی سوچ ہو۔ مبصرین ہندوستان کی انتہاپسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی مثال پیش کرتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ’جب یہ جماعت اقتدار میں آئی تو اس نے کشمیر کو ہندوستان میں آئینی طور ضم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس اقدام کے لئے وہ ملک کا نیا آئین ترتیب دینگے اور بابری مسجد کو گرا کر وہاں رام مندر کی تعمیر کرینگے۔ ‘ مبصرین مزید کہتے ہيں ’لیکن جب یہ جماعت مخلوط اقتدار میں آئی تو کولیشن سیاست کی مجبوریوں نے اس کا ایجنڈا ہی تحلیل کرڈالا۔اسی طرح جب زرادی صاحب اقتدار میں آئینگے تو انہیں اپنی مجبوریوں کا احساس ہوگا۔ سیاست میں آنے کے چالیس روز بعد ہی انیہں اس بات کا شائد ادراک نہ ہو۔‘ |
اسی بارے میں ’مسئلہ کشمیر کاحل بعد میں کرلیں گے‘02 March, 2008 | انڈیا گاندھی رول ماڈل، آزاد کے بیان پر تنقید05 October, 2007 | انڈیا پرتیبھا کے دورۂ کشمیر پر تشویش26 June, 2007 | انڈیا مسلح شورش: پاکستان کنارہ کش15 April, 2007 | انڈیا کشمیرمیں ملاقاتوں کا دورجاری 05 January, 2007 | انڈیا مسئلہ کشمیر: دھند چھٹنے والی ہے؟08 December, 2006 | انڈیا فوجی انخلاء کے مطالبے میں شدّت06 July, 2006 | انڈیا کشمیر، امن عمل کو خطرہ ؟20 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||