کشمیرشدید سردی کی لپیٹ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں گزشتہ چودہ برس کے دوران شدید ترین سردی کی لہر ریکارڈ کی گئی ہے جس نے عام زندگی کو بےحد متاثر کیا ہے۔ مقامی محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ یکم جنوری کی شب کشمیر کا درجہ حرارت صفر سے سات اعشاریہ چار ڈگری نیچے چلا گیا جو پچھلے چودہ سالہ عرصہ میں ایک ریکارڈ ہے۔ شدید سردی سے جھیل ڈل کا پانی بھی جم گیا ہے جبکہ وادی میں سیاسی اور سیاحتی سرگرمیوں میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ڈل جھیل کے قریب موجود ایک چھابڑی فروش ارشد نے بتایا ’گولیوں سے بچے تھے لیکن لگتا ہے سردی مار دے گی۔شاید میری رگوں میں خون جم رہا ہے‘۔ اس دوران پینے کے پانی کی لائنیں جم جانے کی وجہ سے ہزاروں لوگ متاثر ہو رہے ہیں جبکہ طیاروں کی پروازوں میں دُھند کی وجہ سے خلل پڑنے کے سبب مسافروں کو بھی دقت کا سامنا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق پانچ سو پانی کے چشمے جم گئے ہیں اور پن بجلی منصوبوں کی پیدواری صلاحیت میں مشکلات کے بعد بجلی کٹوتی کی شرح پچاسی فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی تو آئندہ مہینوں میں کشمیر کو بجلی کے زبردست بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ دن میں کھُلی دھوپ اور شام ہوتے ہی درجہ حرارت میں خطرنات حد تک کمی واقع ہونے سے صحت عامہ پر بھی مضر اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے ناظم ٹی کے جوتشی کہتے ہیں کہ اُنیس سو پچانوے میں شبینہ درجہ حرارت منفی آٹھ اعشاریہ دو تک گر گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’خشک دن اور سرد راتوں کی صورتحال مزید چند دن تک قائم رہ سکتی ہے کیونکہ اس سال مغربی ڈسٹربنسسز کا اثر کشمیر پر نہیں ہو سکا‘۔
پچھلے سترہ برس میں حکومت نے پہلی بار بالائی سیاحتی مقام گلمرگ میں جس’سنو فیسٹول‘ کا اہتمام کیا تھا ، معیاری برفباری نہ ہونے کے سبب وہاں سکیٹنگ کے مقابلے منعقد کرنے میں بھی مشکلات پیش آئیں۔ تاہم کافی تعداد میں مقامی اور غیر مقامی سیاحوں نے برف پر پھسلنے کا خُوب لُطف اٹھایا۔ لیکن باہر سے آنے والے سیاحوں کو گلمرگ میں توقع سے بہت پتلی برف کی پرت دیکھ کر مایوسی ہوئی۔ اپنے والدین کے ساتھ گلمرگ میں برف میلے کا مزہ لینے آئیں نیتو اور رجنی نے بتایا’ ہم تو برف کا مزہ لینے آئےتھے لیکن برف زیادہ نہیں ہے۔پھر ہم اس میلے سے لطف اندوز ہورہے ہیں‘۔ سرینگر کے ایک نوے سالہ رہائشی ماسٹر غلام قادر راہ کا کہنا ہے کہ پچھلے چالیس سال کےدوران کشمیر کے موسمی حالات میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں’ہمارے صحن میں انار کا چھوٹا درخت تھا۔ جاڑے میں برف ہوتی تو وہ غائب ہوجاتا تھا، ہمیں تو دروازہ کھولنے کے لیے کھڑکی سے باہر آنا پڑتا تھا۔ لیکن بعد میں ہم نے دیکھا کہ سالہاسال تک برفباری نہیں ہوئی‘۔ واضح رہے فروری سال دوہزار پانچ میں گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران سب سے زیادہ برفباری ریکارڑ کی گئی تھی اور کشمیر کے کئی علاقوں میں برفانی طوفان بھی آیا جس میں متعدد جانیں تلف ہوئیں۔ |
اسی بارے میں کشمیر میں برفباری، زندگی مفلوج13 March, 2007 | انڈیا برف:جموں سرینگر شاہراہ پھر بند05 March, 2005 | انڈیا کشمیر برفباری: 170 افراد ہلاک21 February, 2005 | انڈیا برفباری: کشمیر میں آٹھ ہلاک20 February, 2005 | انڈیا کشمیر: برفباری، پچاس ہلاک20 February, 2005 | انڈیا برفباری: سرینگر میں زندگی معطل 19 February, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||