کشمیر برفباری: 170 افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ دو دہائیوں میں ہونے والی شدیدترین برف باری اور سخت موسم کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد ایک سو ستر تک پہنچ گئی ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں دور افتادہ گاؤں میں برفانی تودے گرنے سے ہوئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہیں اور مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ بھارتی فوج اور فضائیہ بھی اس سلسلے میں متحرک کر دی گئی ہیں اور متاثرہ علاقوں تک سامان ہوائی راستے سے گرایا جا رہا ہے۔ فوج نے ایک مقام سے پینتالیس غیر ملکی سیاحوں کو بھی بچایا ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق ڈھائی کلومیٹر لمبی ایک سرنگ جواہر روڈ میں تین سو کے قریب افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ سری نگر کے ہوائی اڈے سے تمام پروازیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔ ایک پولیس اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ علاقے بہت دور افتادہ ہیں اور یہاں آٹھ دن برف پر پیدل چل پہنچا جا سکتا ہے۔ ولٹنگ گاؤں میں فوجیوں نے 74 افراد کو برف کے نیچے سے نکال لیا ہے۔ اس گاؤں میں سو کے قریب افراد برف میں دب کر ہلاک ہو گئے تھے۔ فوجیوں کے مطابق اس گاؤں میں زیادہ تر گھر چار سے پانچ میٹر برف میں دبے ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||