کشمیری سیب : مغربی برآمدات سے خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر میں اس سال سیب کی وافرفصل سے تاجر اور کاشتکار خوش ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ عالمی منڈیوں تک رسائی نہ ہونے اور حکومتی بے توجہی کے باعث ریاست کو سالانہ بیس ارب روپے سے زائد کی درآمداتی آمدن دلانے والی میوہ صنعت زوال کے دہانے پر ہے۔ باغبانی کے ریاستی وزیر محمد دلاور میر اعتراف کرتے ہیں کہ پچھلے تیس سال کے دوران یہاں کی مختلف حکومتیں میوہ خاص طور پر سیب کو ’انٹرنیشنل برانڈ‘ بنانے میں ناکام ہوئی ہیں۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ ان کی مخلوط سرکار نے اس سلسلے میں ایک جامع پالیسی ترتیب دی ہے جس کے ثمرات آئندہ چند سال میں نمایاں ہوجائیں گے۔ لیکن میوہ تجارت سے متعلق حلقے کہتے ہیں کہ ریاست کی بے روزگاری کو ختم کرنے اور ریاستی خزانہ کے لئے ’ریڑھ کی ہڈی‘ کا درجہ رکھنے والی میوہ صنعت کے ساتھ حکومت ’سوتیلی ماں‘ کا سلوک کر رہی ہے ۔
باغبانوں اور میوہ تاجروں کی انجمن ’فروٹ گروورز ایسوسی ایشن‘ کے صدر حاجی بشیر احمد بیگ نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران بتایا کہ ’ہر سیزن کے دوران اسی منڈی میں روزانہ اڑھائی کروڑ مالیت کا میوہ بکتا ہے۔ لیکن پچھلے بیس سال میں حکومت نے اس منڈی کی سڑکیں تعمیر کیں نہ بیت الخلا بنائے۔ حکومت نے ہارٹیکلچر پلاننگ اینڈ مارکیٹنگ کا ادارہ قائم کیا ہے، لیکن ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔‘ مسٹر بیگ کا کہنا ہے کہ ایک مقامی ہوٹل میں سات سال قبل آگ کی واردات میں دلّی اور دیگر ریاستوں کے سولہ خریدار زندہ جل گئے تھے۔ اس کے بعد حکومت نےمنڈی میں جو ہوسٹل تعیمیر کروایا اس پر ایک سرکاری محکمہ نے قبضہ جما لیا۔‘ انڈیا کے مرکزی وزیر برائے تجارت نے گزشتہ ماہ سرینگر کے نواح میں ایک ’انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر‘ قائم کرنے کا اعلان کیا جبکہ باغبانی کے مقامی وزیر محمد دلاور میر نے گزشتہ دنوں سوپور منڈی میں ایک کولڈ سٹوریج پلانٹ کی تعمیر کا اعلان کیا۔ لیکن میوہ تاجران اعلانات سے زیادہ مطمئن نظر نہیں آتے۔ کاشتکاروں کی نمائندگی کرنے والے مسٹر بیگ کا خیال ہے کہ ان اقدامات سے میوہ صنعت خبروں میں ضرور آئے گی لیکن عملی طور پر فائدہ نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ، ’مارکیٹنگ بے شک اہم ہے، اور اس کے لئے مناسب اقدامات ضروری ہیں، لیکن ہمارا اصل مسئلہ کیڑے مار دوائیوں کا ہے۔ انڈیا میں ہر کیڑے مار دوائی کی نقل تیار ہوتی ہے۔ اس کے لئے قانون سازی ہونی چاہیے، جب تک کوالٹی دوائی دستیاب نہیں ہوگی ہم میوہ کا معیار کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں۔‘ مسٹر بیگ نے مزید بتایا کہ عالمی سطح پر آزادانہ تجارت کا تصور متعارف ہوجانے کے بعد جب ہندوستان بھی اس عمل کا حصہ بن گیا تو کشمیری سیب براہ راست امریکہ ، چیلی، چین اور آسٹریلیا کے مقابلے میں آگیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ، ’ہمارا سیب لذت کے اعتبار سے دنیا میں ابھی بھی نمبر ون ہے، لیکن آج کی دُنیا میں پیکیجنگ دلکش ہونی چاہیے، اور اس کے لئے سرکاری معاونت ضروری ہے۔‘ حکومت نے اس ضرورت کا احساس کرتے ہوئے ریلائنس لمیٹڈ کے بنائے ہوئی جدید طرز کی دس لاکھ پیٹیاں یا بکسے ذخیرہ کئے ہیں لیکن مقامی کاشتکاروں کا کہنا ہے ان کی قیمت بہت زیادہ ہے۔
سوپور کے ہی ایک کاشتکار غلام محی الدین خان کا کہنا ہے کہ، ’ہم پتلے پھٹوں سے بنی پیٹیوں کی بجائے اس نئی پیٹی کا استعمال کرتے لیکن چھیانوے روپے فی پیٹی کی قیمیت بہت زیادہ ہے اور حکومت کوئی رعایت دینے کے لئے تیار نہیں۔ میں حیران ہوں کہ اس قدر بڑی صنعت کے تئیں حکومت سوتیلی ماں کا سلوک کیوں کرتی ہے۔ صرف سوپور میں دس ہزار ایسے نوجوان اس صنعت کے ساتھ وابستہ ہیں جو یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرچکے ہیں۔‘ ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے بتایا کہ کاشتکاروں کے ان خدشات کو دور کرنے کے لئے حکومت نے سو کروڑ روپے کا سرمایہ خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ جموں کشمیر بنک نے حال ہی میں اپنی نوعیت کے پہلے اقدام کے طور ’ایپل انشورنش‘ متعارف کروایا ہے۔ بینک کے چیئرمین نے باغبانی کے شعبہ میں آٹھ سو کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں اب امریکہ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کے سیب بھی بکتے ہیں، جس کے باعث کشمیری سیب کے لئے مقابلے کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ ایسے میں کشمیری سیب اپنی سبقت کیسے بنائے رکھے گا؟ اس سوال کے جواب میں مسٹر بیگ کہتے ہیں کہ حکومت چاہے تو کوئی بھی صنعت ترقی کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ، ’جو بھی غیر ملکی کاشتکاروں اور تاجروں کے لئے ہندوستان تک کی ٹرانسپورٹیشن دستیاب رکھی گئی ہے، جبکہ بنگلہ دیش جہاں کسی بھی ملک کے میوہ پر ٹیکس نہیں لگتا، ہمیں دس لاکھ مالیت کے ایک ٹرک پر پونے تین لاکھ روپے ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔‘
کشمیری صنعت کاروں اور تاجروں کی تنظیم ’ کشمیر چیمبر آف انڈسٹریز اینڈ کامرس‘ کے سربراہ ڈاکٹر مبین شاہ میوہ صنعت کو درپیش ان چیلنجوں کے حوالے سے تجویز کرتے ہیں کہ کنٹرول لائن کے آر پار تجارت کو فروغ دیا جائے۔ بعض تخمینوں کے مطابق پاکستان اور ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے دونوں حصوں کے آر پار میوہ تجارت کا حجم چار سو کروڑ روپے تک جا سکتا ہے۔ مسٹر شاہ کا کہنا ہے کہ ،'مظفرآباد روڑ نہ صرف کشمیر کو پاکستان اور وسط ایشیا کے دیگر ممالک کے ساتھ ملاتا ہے بلکہ سرینگر سے کلکتہ کا سفر سرینگر سے قندھار تک کے سفر جیسا ہے۔‘ لیکن انہیں اس حوالےسے حکومت کی جانب سے تعاون کی بہت کم امید ہے کیونکہ بقول ان کے پچھلے دو سال سے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے تاجروں کے وفد کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ | اسی بارے میں بھارت: ترقی کی شرح میں اضافہ30 September, 2005 | انڈیا بھارتی معیشت کی بڑھتی رفتار 24 January, 2007 | انڈیا انڈیا: بلند معیشت، پست مسلمان08 February, 2007 | انڈیا مسلم خواتین کی سست رفتار08 February, 2007 | انڈیا کانگریس ’عوامی بجٹ‘ پیش کرے گی28 February, 2007 | انڈیا انڈیا اناج درآمد کرے گا22 June, 2006 | انڈیا بھارتی برآمدات، اسی ارب ڈالر پر 09 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||