برفباری: کشمیر میں آٹھ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس کے مطابق بھارت کے زیرِانتظام کشمیرمیں برفانی تودے گرنے سے آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ برفباری سے سرینگر سمیت کئی علاقوں کاروبارِ زندگی معطل ہو گیا ہے اور تودے گرنے کے واقعات سے راستے بند ہو گئے ہیں۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جموں سرینگر ہائی وے پر کام کرنے والے چار کارکن بھی مرنے والے افراد میں شامل ہیں۔ برفباری سے تیس مکانات بھی تباہ ہو گئے ہیں جبکہ سینکڑوں افراد اپنے گھروں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ بی بی سی اردو کے نامہ نگار الطاف حسین کے مطابق گرمائی دارالحکومت سری نگر میں اہم سڑکوں سے برف صاف بھی کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود ٹریفک سڑکوں پر دکھائی نہیں دیتی اور دکانیں بند ہیں۔اس کے علاوہ بجلی کی فراہمی میں بھی خلل پڑ رہا ہے اور حکام پریشان ہیں کہ اس کے نتیجے میں پانی کی فراہمی کا نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اس دوران بی بی سی ہندی کی بینو جوشی نے خبر دی ہے کہ ویشنو دیوی کے مندر کی یاترا بھی معطل کر دی گئی ہے۔ ویشنو دیوی کا مندر صرف ہندوں ہی کے لیے ہی نہیں دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے بھی انتہائی عقیدت کا حامل ہے اور لوگ یہاں منتیں اور مرادیں مانگنے کے لیے جاتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مسلسل بارشوں اور برفباری کے نتیجے میں مانوکانا بھون کے گرد و نواح میں تودے گرنے کے واقعات ہو رہے ہیں جس کے وجہ سے کسی کو بھی کاترا سے آگے نہیں جانے دیا جا رہا۔ کاترا ویشنو دیوی کے مندر کے لیے پہاڑی راستے کا بیس کیمپ ہے اور کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں سے پینتالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر سال تقریباً ساٹھ لاکھ کے قریب لوگ ویشنو دیوی کے مندر کی یاترا کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||