سری نگر حملہ، چار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں 25 گھنٹے جاری رہنے والا فوجی آپریشن ختم ہو گیا ہے اور سکیورٹی فوج نے سپورٹس کمپلیکس میں گھسنے والے دونوں شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ سری نگر کے سپورٹس کمپلیکس میں گھسنے والے دونوں شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ آپریشن کے دوران دو بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ سنیچر کو علیحدگی پسند گروپ کے دو حملہ آور سخت حفاظتی علاقے میں واقع سپورٹس کمپلیکس میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ یہ سپورٹس کمپلیکس بھارتی کی سنٹرل ریزرو پولیس کے زیر استعمال ہے۔ اطلاعات کے مطابق سینکڑوں نیم فوجی دستوں نے سپورٹس کمپلیکس میں گھسے ہوئے شدت پسندوں کو نکالنے کے آپریشن میں حصہ لیا۔ ایک کشمیر ی علحیدگی پسند گروہ المنصورین نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس گروہ نے آٹھ روز پہلے بھی سری نگر میں واقع ایک سرکاری عمارت کو آگ لگانے کا دعوی کیا تھا جس میں چار لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ حکام کے مطابق شدت پسندوں نے خاموشی سے کمپلیکس میں داخل ہونے کے بعد وہاں قائم پاسپورٹ کے دفتر میں پوزیشن سنبھالی لی تھی۔اس کمپلییکس میں بھارت کے اور بھی بہت سے سرکاری دفاتر ہیں۔ اسی کمپلیکس میں مرکزی ریزرو پولیس فورس کی ایک بٹالین بھی موجود ہے لیکن فورس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ شدت پسند بٹالین کے کیمپ میں داخل ہونے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ کمپلیکس بخشی سٹیڈیم کے قریب ہی واقعہ ہے جہاں چھبیس جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ کشمیر میں ایک اور ایک حملے میں بلدیاتی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے ایک امیدوار غلام محمد حکیم پر دستی بم پھینکا گیا۔ اس حملے میں دو پولیس افسروں سمیت اٹھارہ افراد زخمی ہوئے۔ غلام محمد حکیم حملے میں بال بال بچ گئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||