BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 March, 2008, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسئلہ کشمیر کاحل بعد میں کرلیں گے‘
آصف زرداری
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشیمر کے سبب جنگ ہوچکی ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیے جانے سے پہلے فریقین کے مابین تجارت کے فروغ کے خواہاں ہيں۔

پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری نے ہندوستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سے کہا کہ ایک بار دونوں ملکوں کے رشتے مضبوط ہوجائیں تو پھر متنازعہ مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ اکثر پاکستانی رہنما مسئلہ کشمیر کو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے بیچ سب سے بڑا رخنہ قرار دیتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہيں کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا حل تلاش نہیں کرلیا جاتا ہے اس وقت تک دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات مستحکم نہیں ہو سکتے۔ جبکہ ہندوستان پورے کمشیر کو اپنا ایک اٹوٹ حصہ قرار دیتا رہا ہے۔

کمشیر سے متعلق زرداری کا تازہ بیان اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ ہندوستان کے نقطۂ نظر سے ان کا یہ بیان پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کے نظریات میں تبدیلی کا عندیہ دے رہا ہے۔

ہندوستان کے نجی ٹی وی چینل سی این این - آئی بی این کے ایک پروگرام میں صحافی کرن تھاپر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زرداری نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین رشتے کو کشمیر کے تنازعہ سے باندھ کر نہيں رکھا جاناچاہیے۔

تبدیلی کا عندیہ
اکثر پاکستانی رہنما مسئلہ کشمیر کو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے بیچ سب سے بڑا رخنہ قرار دیتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہيں کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا حل تلاش نہیں کرلیا جاتا ہے اس وقت تک دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات مستحکم نہیں ہو سکتے ہيں۔ جبکہ ہندوستان پورے کمشیر کو اپنا ایک اٹوٹ حصہ قرار دیتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں ملک انتظار کرسکتے ہيں اور آنے والی نسلیں کشمیر تنازعہ کا حل تلاش کرسکتی ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات میں یقین پیدا ہوجائے گا۔‘

’ڈیولز ایڈویکٹ‘ نامی پروگررام میں پی پی پی رہنما نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان کا اپنا نظریہ ہے اور ہندوستان کی اپنی رائے ہے لیکن ’دونوں ہی ملک نااتفاقی کے لیے اتفاق کر سکتے ہيں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ’ ایسا ملکوں کے درمیان ہوتا ہے۔‘

یہ پوچھے جانے پر کہ آیا پی پی پی اس بات کے لیے تیار ہے کہ کمشیر کے مسئلے کو ویسے ہی درکنار کر دیا جائے جیسے ہندوستان نے چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ کو درکنار کررکھا ہے تو ان کا کہنا تھا’یقیناً‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مسئلہ کشمیر کا حل دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان تعلقات اور تجارت میں فروغ دے کر دونوں فریقین کے مابین ڈر کے ماحول کو کم کر کے کیا جاسکتاہے۔‘

زرداری اور نواز
پی پی پی اور نواز لیگ پاکستان میں مشترکہ حکومت سازی کے لیے کوشاں ہيں

’میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو اس سطح تک لے جانا چاہتا ہوں جہاں دونوں کی جانب سے ڈر کے ماحول کا خاتمہ ہوسکے۔‘

جب ان سے یہ پوچھا گيا کہ آپ جو کہہ رہے ہيں آیا اس سے ملک کی دوسرے سیاسی پارٹیاں اتفاق کریں گی تو ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں جس معاشی استحکام کی بات کررہا ہوں اس کے بارے میں کسی بھی پاکستانی رہنماء نے پاکستان کے عوام کو نہيں بتایا کہ وہ کس حالت میں ہيں اور ہندوستان سے تجارتی تعلقات بہتر ہونے سے انہيں کیا حاصل ہو سکتا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نئے وزیر ا‏عظم ہندوستان کے دورے پر آئيں گے اور دوسری جماعتوں کے رہنما بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔

کشمیر، فائل فوٹومشرف کشمیر پالیسی
پاکستانی انتخابی نتائج کے کشمیر پالیسی پر اثرات
کشمیری خودارادیت
کشمیر میں علیحدگی پسندوں میں اتحاد
کشمیر ’خون جم رہا ہے‘
کشمیر میں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے
کشمیر: سالنامہ 06
فارمولوں،مظاہروں اور لچک کا سال
انڈین فوجفوجی انخلاء کامطالبہ
’کشمیری ڈی ملٹرائزیشن چاہتے ہیں‘
کشمیر مذاکرات
130 بار مذاکرات ہوئے، کیا ملا: سید علی گیلانی
شبیر شاہمیرا موقف
ہم نے کشمیر پر مذاکراتی راستہ چنا: شبیر شاہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد