’مسئلہ کشمیر کاحل بعد میں کرلیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیے جانے سے پہلے فریقین کے مابین تجارت کے فروغ کے خواہاں ہيں۔ پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری نے ہندوستان کے ایک نجی ٹی وی چینل سے کہا کہ ایک بار دونوں ملکوں کے رشتے مضبوط ہوجائیں تو پھر متنازعہ مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ واضح رہے کہ اکثر پاکستانی رہنما مسئلہ کشمیر کو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کے بیچ سب سے بڑا رخنہ قرار دیتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہيں کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا حل تلاش نہیں کرلیا جاتا ہے اس وقت تک دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات مستحکم نہیں ہو سکتے۔ جبکہ ہندوستان پورے کمشیر کو اپنا ایک اٹوٹ حصہ قرار دیتا رہا ہے۔ کمشیر سے متعلق زرداری کا تازہ بیان اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ ہندوستان کے نقطۂ نظر سے ان کا یہ بیان پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کے نظریات میں تبدیلی کا عندیہ دے رہا ہے۔ ہندوستان کے نجی ٹی وی چینل سی این این - آئی بی این کے ایک پروگرام میں صحافی کرن تھاپر کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زرداری نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین رشتے کو کشمیر کے تنازعہ سے باندھ کر نہيں رکھا جاناچاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں ملک انتظار کرسکتے ہيں اور آنے والی نسلیں کشمیر تنازعہ کا حل تلاش کرسکتی ہیں جب دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات میں یقین پیدا ہوجائے گا۔‘ ’ڈیولز ایڈویکٹ‘ نامی پروگررام میں پی پی پی رہنما نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان کا اپنا نظریہ ہے اور ہندوستان کی اپنی رائے ہے لیکن ’دونوں ہی ملک نااتفاقی کے لیے اتفاق کر سکتے ہيں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ’ ایسا ملکوں کے درمیان ہوتا ہے۔‘ یہ پوچھے جانے پر کہ آیا پی پی پی اس بات کے لیے تیار ہے کہ کمشیر کے مسئلے کو ویسے ہی درکنار کر دیا جائے جیسے ہندوستان نے چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ کو درکنار کررکھا ہے تو ان کا کہنا تھا’یقیناً‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مسئلہ کشمیر کا حل دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان تعلقات اور تجارت میں فروغ دے کر دونوں فریقین کے مابین ڈر کے ماحول کو کم کر کے کیا جاسکتاہے۔‘
’میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو اس سطح تک لے جانا چاہتا ہوں جہاں دونوں کی جانب سے ڈر کے ماحول کا خاتمہ ہوسکے۔‘ جب ان سے یہ پوچھا گيا کہ آپ جو کہہ رہے ہيں آیا اس سے ملک کی دوسرے سیاسی پارٹیاں اتفاق کریں گی تو ان کا کہنا تھا ’میرے خیال میں جس معاشی استحکام کی بات کررہا ہوں اس کے بارے میں کسی بھی پاکستانی رہنماء نے پاکستان کے عوام کو نہيں بتایا کہ وہ کس حالت میں ہيں اور ہندوستان سے تجارتی تعلقات بہتر ہونے سے انہيں کیا حاصل ہو سکتا ہے۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نئے وزیر اعظم ہندوستان کے دورے پر آئيں گے اور دوسری جماعتوں کے رہنما بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ |
اسی بارے میں گاندھی رول ماڈل، آزاد کے بیان پر تنقید05 October, 2007 | انڈیا پرتیبھا کے دورۂ کشمیر پر تشویش26 June, 2007 | انڈیا مسلح شورش: پاکستان کنارہ کش15 April, 2007 | انڈیا کشمیرمیں ملاقاتوں کا دورجاری 05 January, 2007 | انڈیا مسئلہ کشمیر: دھند چھٹنے والی ہے؟08 December, 2006 | انڈیا فوجی انخلاء کے مطالبے میں شدّت06 July, 2006 | انڈیا کشمیر، امن عمل کو خطرہ ؟20 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||