پرتیبھا کے دورۂ کشمیر پر تشویش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں صدارتی عہدے کی پہلی خاتون اُمیدوار، پرتیبھا پاٹل آئندہ ہفتے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کا دورہ کر رہی ہیں جبکہ وادی میں شیوسینا کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے کانگریس پارٹی کو پرتیبھا کے دورے سے متعلق خدشات لاحق ہیں۔ گزشتہ روز شیوسینا کی جانب سے پاٹل کی نامزدگی کی حمایت کے اعلان کے بعد کانگریس لیڈروں کو یہ خدشات لاحق ہوگئے ہیں کہ ایسے حالات میں کہیں حکمراں اتحاد بالخصوص پارٹی صدر سونیا گاندھی کی پسندیدہ امیدوار پرتیبھا پاٹل کا دورہ کانگریس کو متاثر نہ کر دے۔ ایک سینئر کانگریس لیڈر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ’شیوسینا ایک فرقہ پرست تنظیم ہے جبکہ ہم سیکولر نظریہ کے حامی ہیں۔ اگر اس وقت یہاں جموں میں ہونے والے کسی واقعہ کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں تو پرتیبھا پاٹل کے دورے سے منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں‘۔ تاہم اس حوالے سے جموں و کشمیر کانگریس کے نائب سربراہ عبدالغنی وکیل نے بی بی سی کو بتایا ’شیوسینا کے حمایت کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ حمایت انہوں نے کی ہے، ہم(کانگریس) نے تو نہیں مانگی‘۔
ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں اعتماد ہے کہ یہ دورہ کامیاب رہے گا‘۔ واضح رہے کہ پچھلے دونوں علیٰحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس کے ایک لیڈر ظفر اکبر بھٹ پر جموں میں شیو سینا کے ریاستی شاخ کے سربراہ آنند شرما نے پریس کانفرنس کے دوران حملہ کر کے انہیں زخمی کردیا تھا۔ اس پر منگل کو سرینگر کے تجارتی مرکز لال چوک میں حریت کارکنوں نے شیوسینا کے خلاف مظاہرے بھی کیے اور آنند شرما کے پتلے نذرآتش کیے۔ | اسی بارے میں کشمیری رہنماؤں پر شِیوسینا کے حملے25 June, 2007 | انڈیا پاٹل دلی میں، سونیا سے ملاقات16 June, 2007 | انڈیا صدارت: خاتون امیدوار کا خیرمقدم15 June, 2007 | انڈیا پہلی ممکنہ خاتون صدر، پرتیبھا پاٹل کون؟15 June, 2007 | انڈیا پرتیبھا پاٹل صدارت کی امیدوار14 June, 2007 | انڈیا ’نئے صدر کے نام پر اتفاق ہوگیا‘12 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||