کشمیری رہنماؤں پر شِیوسینا کے حملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کےعلیٰحدگی پسند رہنماؤں پر شیو سینا کے مبینہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور حریت کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو فرانس اور امریکہ کے دورے کے دوران عالمی اداروں کے نوٹس میں لائیں گے۔ حریت لیڈر ظفر اکبر بھٹ پر جموں میں گزشتہ روز انڈیا کی ہندو انتہا پسند تنظیم شو سینا کے سربراہ آنند شرما نے اُس وقت حملہ کر دیا جب وہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرنے والے تھے۔ ظفر حزب المجاہدین کے اُن پانچ کمانڈروں میں سے واحد زندہ کمانڈر ہیں جنہوں نے جولائی دو ہزار میں سیز فائر کے بعد حکومت ہند کے ساتھ بات چیت میں حصہ لیا تھا۔ اب وہ میرواعظ عمر کی سربراہی والی حریت کانفرنس میں شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پچھلے سات سال میں کشمیری علیٰحدگی پسندوں پر جموں میں یہ ساتواں حملہ ہے۔ اس واقعے کے خلاف علیٰحدگی پسندوں کے اتحاد حریت کانفرنس ’مناسب کارروائی‘ کا فیصلہ کرنے کے لیے اگلے ہفتے مشاورتی اجلاس طلب کر رہی ہے۔ ظفر اکبر بھٹ پر حملہ کے وقت پریس کانفرنس میں موجود جموں کے ایک صحافی عارف حلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ شوسینا کے ریاستی سربراہ آنند شرما اپنے کئی ساتھیوں سمیت کانفرنس ہال میں داخل ہوئے اور ظفر کے چہرے پر مُکا رسید کردیا ، جس کے نتیجہ میں ظفر کے مُنہ سے خون بہنے لگا۔
عارف کا کہنا ہے کہ ’حملے کے دس منٹ بعد پولیس وہاں پہنچی لیکن آنند شرما ساتھیوں کے ساتھ فرار ہوچکے تھے‘۔ جموں کے انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ایس پی وید نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’حریت والوں کو ہمیں مطلع کرنا چاہیے تھا، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ پھر بھی ہم نے معاملہ درج کرلیا ہے اور آنند شرما کو بہت جلد گرفتار کر لیا جائے گا‘۔ حریت کانفرنس کے ترجمان شاہدالاسلام نے اس حوالے سے بتایا کہ میرواعظ کی فرانس اور امریکی دورے سے واپسی پر حریت کانفرنس اپنی مجلس عاملہ کے علاوہ حریت سے باہر کے لیڈروں کا بھی مشاورتی اجلاس طلب کرے گی۔ ان کا کہنا تھا، 'میری میرواعظ صاحب سے بات ہوئی۔ انہوں نے اس معاملہ کو کافی سنجیدہ قرار دیا ہے اور کہاکہ وہ یہ مسئلہ عالمی اداروں کے ساتھ اُٹھائیں گے‘۔ شاہد کا مزید کہنا تھا کہ سرینگر میں حریت کے صدر دفتر کے بالکل ساتھ میں ہندوستان کی ہندوتوا نواز جماعت بی جے پی کا دفتر پچھلے کئی سال سے سرگرم ہے۔ شاہد کہتے ہیں کہ ’کشمیر میں جموں کے ہندو لیڈر اکثر آتے ہیں، لال چوک میں ہمارے مجاہدین کے خلاف بولتے ہیں، ہمارے لیڈروں کے خلاف بولتے ہیں۔ اس کے خلاف اگر ہم نے پر امن احتجاج بھی کریں تو ہمیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کر دیا جاتا‘۔ حملہ آور شیو سینا لیڈر آنند شرما اور جموں کے مقامی بی جے پی لیڈروں نے اس سلسلے میں کسی قسم کے ردعمل سے صاف انکار کر دیا۔ تاہم سرینگر سے سترہ سال قبل ہجرت کرنے والے کشمیری پنڈتوں میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ میں انسداد دہشت گردی سے متعلق کمیٹی کے واحد کشمیری ممبر ڈاکٹر اشوک بھان نے بی بی سی کو فون پر بتایا، 'یہ تو سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جموں والوں کو رواداری کی اہمیت سمجھنی ہوگی۔ ہر ایک کو اپنا نکتہ نگاہ بیان کرنے کا حق ہے، چاہے اس کی بات ملکی قانون کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور پھر یہ حکومت کا کام ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکے، کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کا حق نہیں‘۔ جموں میں مقیم خاتون صحافی سروج رازدان اس حوالے سے کہتی ہیں کہ ریاست کی سیکولر امیج کو برقرار رکھنے کے لیے سنجیدہ حلقوں کو آگے آکر ایسے واقعات پر احتجاج کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ اُنیس سو نناوے میں کرگل جنگ کے بعد جب مقتول حریت لیڈر عبدالغنی لون نے جموں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرنا چاہا تو شیو سینا کارکنوں نے ان پر حملہ کیا۔ اس کے بعد سید علی شاہ گیلانی، محمد یٰٰسین ملک، میر واعظ عُمر فاروق اور ہاشم قریشی کو بھی ان حملوں کا شکار ہونا پڑا۔ | اسی بارے میں مہاراشٹرمیں شیو سینا کی پکڑ مضبوط02 February, 2007 | انڈیا ممبئی: شیو سینا دھڑوں میں لڑائی 10 October, 2006 | انڈیا بی جے پی و شیو سینا پر جرمانہ 16 September, 2005 | انڈیا علیحدگی پسند کشمیری دِلّی میں 04 September, 2005 | انڈیا شیو سینا میں سیاسی جوڑ توڑ03 July, 2005 | انڈیا کشیمری علیحدگی پسند رہنما گرفتار19 February, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||