مہاراشٹرمیں شیو سینا کی پکڑ مضبوط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج سامنے آچکے ہیں جس میں شیوسینا اور بھارتی جنتا پارٹی اتحاد نے ایک بار پھر کامیابی حاصل کی ہے۔ سب سے اہم کارپوریشن بی ایم سی (ممبئی) کی 227 نشستیں ہیں جس میں شیوسینا اور بھارتی جنتا پارٹی اتحاد کو ایک سو نو سیٹیں حاصل ہوئی ہیں اور اس طرح ممبئی کے اقتدار پر ان قبضہ برقرار رہےگا۔ تمام دس بلدیاتی انتخابات میں پہلی مرتبہ ایسی کئی بلدیہ ہیں جہاں کسی بھی پارٹی یا اتحادی محاذ کو مکمل اکثریت نہیں ملی ہے۔ بی ایم سی پر بی جے پی اور شیو سینا اتحاد کا گزشتہ دس برس سے قبضہ ہے۔ اس باراس کے جیتنے کی وجہ کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے درمیان آپسی اختلاف ہے۔ ان دونوں نے اس بار بلدیاتی انتخاب کے لیے آپسی اتحاد نہیں کیا تھااور دوسری طرف مسلمان اور دیگر سیکولر پارٹیوں نے ملکر ایک تیسرا محاذ بنایا جس کے سبب ووٹ تقسیم ہوگئے۔ شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے کے بھتیجے راج ٹھاکرے کی پارٹی ممبئی میں کوئی خاص اثر ڈالنے ناکام رہی ہے لیکن ممبئی سے باہر حلقوں میں ان کے امیدواروں نے جیت حاصل کی ہے۔ انتخابات میں اہم چیز دیکھنے میں یہ آئی کہ اس بار مہم کے دوران ممبئی کی ترقی اور اس کے مسائل کے بارے میں بات برائے نام ہوئی اور ہندتوا، علاقائی اہمیت ( مراٹھی کارڈ ) جیسے معاملات چھائے ر ہے۔ کہا جارہا تھا کہ اس مرتبہ شیو سینا کو بڑا دھکا لگ سکتا ہے کیونکہ پہلے نارائن رانے اور پھر راج ٹھاکرے اس پارٹی سے الگ ہوگئے تھے۔ کانگریس نے اسی لیے نارائن رانے کے حامیوں کو اس مرتبہ زیادہ ٹکٹ بھی دیے تھے۔ شیوسینا کو راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نو نرمان سینا سے خطرہ تھا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا تھا کہ راج ٹھاکرے کی پارٹی کے امیدوار شیوسینا کے ووٹ تقسیم کریں گے۔ لیکن راج ٹھاکرے کی پارٹی کے امیدوار شیوسینا کو بہت زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکے۔ کہا جارہا ہے کہ شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نے انتہائی ہوشیاری کے ساتھ انتخابی مہم کے آخری دنوں میں ایک بار پھر ہندتوا کا نعرہ دیا اور انہوں نے بی جے پی کے رہنما اور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو بھی بلایا تھا۔ اس سٹیج سے ٹھاکرے نے ممبئی کے ہندؤں کو مسلمانوں کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی تھی۔ حالانکہ ان کے اس اشتعال انگیز بیان کے خلاف چند مسلم اور سیکولرتنظیموں نے الیکشن کمیشن سے شکایت بھی کی تھی لیکن گیارہ جولائی ٹرین بم دھماکوں کے پیش نظر ان کا یہ داؤں چل گيا۔ مسٹر ٹھاکرے نے مراٹھی کارڈ بھی کھیلا۔ انہوں نے مراٹھیوں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ کانگریس شمالی بھارت سے آئے لوگوں اور اقلیتوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ رکھتی ہے اور اسی لیے کہیں نہ کہیں مراٹھیوں کو ان کا حق نہیں مل رہا ہے اور شیوسینا ہی وہ واحد پارٹی ہے جو انہیں ان کا حق دلا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ممبئی کے مراٹھی ووٹوں کی بہت زیادہ تقسیم نہیں ہوئی اور شیوسینا ایک بڑی پارٹی کے روپ میں ابھر کر سامنے آگئی۔ دوسری جانب کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی ) کے نتائج نے یہ ظاہر کر دیا کہ اگر یہ دونوں پارٹیاں اتحاد کے ساتھ انتخابی میدان میں اترتیں تو انہیں کامیابی ملتی اور اس امیر ترین کارپوریشن پر دس سال بعد ان کا قبضہ ہو سکتا تھا۔مہاراشٹر کے وزیر اعلی ولاس راؤ دیش مکھ نے اعتراف کرلیا ہے کہ این سی پی سے اتحاد نہ کرنا ایک بڑی غلطی تھی۔ کانگریس اور این سی پی دونوں نے الیکشن کے دوران ممبئی کے مسائل پر توجہ دینے اور اس کے حل کی بات کرنے سے زیادہ ان کے اعلی لیڈران ایک دوسرے پر نکتہ چینی اور الزام تراشیاں کرتے رہے جس کا عوام پر برا اثر پڑا۔ کانگریس اور این سی پی پارٹی کی شکست کی ایک اور وجہ تیسرا محاذ بھی ہے۔ مسلمان ان دونوں پارٹیوں سے ناراض تھے اور اسی لیے کئی جگہ ووٹوں کی تقسیم بھی ہوئی۔ تیسرے محاذ سے سماج وادی پارٹی اور ری پبلکن پارٹی کے ایسے امیدوار کامیاب ہوئے جن کی امید نہیں تھی۔ سیاسی معاملات کے تبصرہ نگار کمار کیتکر کے مطابق انہیں یقین تھا کہ بی ایم سی میں شیوسینا بی جے پی کو مکمل اکثریت نہیں ملے گی لیکن یہ غلط ثابت ہوا اور اس کی وجہ انتخابی مہم کے آخری دور میں بالا صاحب ٹھاکرے کا ہندتوا کارڈ اور کانگریس اور این سی پی کی آپسی جنگ ہے۔ مسٹر کیتکر کے مطابق ان نتائج کے ساتھ اب ادھو ٹھاکرے مراٹھیوں میں ایک نئی طاقت کے طور پر ابھریں گے کیونکہ عوام نے شیوسینا میں ان کی لیڈر شپ کو ہری جھنڈی دکھادی ہے۔ ممبئی کے علاوہ پونے اور ناگپور میں بھی کانگریس کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پونے اور پمپری چنچوڑ میں این سی پی ایک نئی طاقت کے طور پر ابھری ہے۔ ناگپور جو کبھی کانگریس کا گڑھ ہوا کرتا تھا اس کے مضبوط قلعہ میں شیوسینا اور بی جے پی اتحاد نے اپنا مقام بنا لیا ہے۔ اسی طرح اکولہ اور امراؤتی میں کسی بھی پارٹی کو مکمل اکثریت نہیں ملی ہے۔ واضح اکثریت نہ ملنے سے پارٹیوں میں جوڑ توڑ اور خرید و فروخت کی سیاست تیز ہو نے کی توقع ہے لیکن مکمل تصویر گزشتہ چند دنوں میں سامنے آئے گی۔ | اسی بارے میں مہاراشٹر: بلدیاتی ووٹنگ مکمل01 February, 2007 | انڈیا امیدواروں کومقدمات کا سامنا25 January, 2007 | انڈیا ممبئی کارپوریشن کے لیے انتخابات19 January, 2007 | انڈیا ممبئی کاسیاسی منظر اور مسلمان 30 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||