ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اعلٰی عدالتوں کے ججوں کی بحالی کے لیے وکلاء کے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے کراچی اور کوئٹہ سے پیر کی صبح روانہ ہونے والے وکلاء کے قافلے سکھر پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کےصدر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ میں معزول چیف جسٹس اور دیگر ججوں کی شرکت کا فیصلہ گیارہ جون کو کیا جائے گا۔ بلوچستان اور سندھ سے آنے والے وکلاء سکھر سے منگل کو ملتان روانہ ہوں گے اور گیارہ جون کو وکلاء کا لانگ مارچ ملتان سے شروع ہو کر لاہور پہنچے گا جہاں سے آخری مرحلے میں اسلام آباد کی جانب مارچ ہوگا۔ کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پیر کی صبح کراچی سے قائد اعظم مزار سے شروع ہونے وکلاء کے قافلے کو الوادع کرنے والے والوں میں پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور سابق جج فخر الدین جی ابراہیم بھی شامل تھے۔ وکلاء کے قافلے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن اور رہنماء بھی شریک ہیں۔ ایک درجن بسوں اور کاروں پر مشتمل وکلاء کا قافلہ سپر ہائی وے سے ہوتا ہوا حیدرآباد پہنچا، جہاں سے مزید وکلاء شامل ہوگئے۔ کراچی سے روانگی سے قبل وکلاء کے نمائندوں نے تقریریں کرتے ہوئے کہا کہ آئین توڑنے والوں کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا، تو تحفظ فراہم کرنے والے بھی اتنے ہی مجرم ہوں گے جتنا آئین توڑنے والا۔ فخر الدین جی ابراہیم کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ وقت کا تقاضا اور لازمی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ آئینی پیکیج کو رد کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ لانگ مارچ اپنی منزل حاصل کرے گا۔
کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق بلوچستان سے وکلاء کا قافلہ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے ضلع کچہری کوئٹہ سے سکھر کے لیے روانہ ہوا اور سیاستدانوں مزدوروں اور سول سوسائٹی کے افراد نے وکلاء کو رخصت کیا۔ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر شہروں کے وکیل پیر کی صبح ضلع کچہری میں جمع ہوئے جہاں سے گاڑیوں میں یہ قافلہ روانہ ہوا۔ اس قافلے کی قیادت وکیل رہنما علی احمد کرد ایڈووکٹ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہادی شکیل ایڈووکیٹ اور بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ کر رہے تھے۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی کے علاوہ دیگر جماعتوں کے کارکن مزدور اساتذہ اور سول سوسائٹی کے دیگر ارکان نے وکلاء کو رخصت کیا ہے۔ اس موقع پر سخت نعرہ بازی کی گئی۔ روانگی سے قبل ہادی شکیل ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے قافلے میں اس وقت سو کے لگ بھگ وکیل شامل ہیں جبکہ راستے میں مچھ، سبی، ڈیرہ مراد جمالی اور ڈیرہ اللہ یار کے وکیلوں کو وہ ساتھ کے لے کر سکھر پہنچیں گے جہاں سندھ اور بلوچستان کے بیشتر اضلاع کے وکیل جمع ہوں گے اور پھر ملتان کے لیے روانہ ہوں گے۔ اس سے پہلے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ قافلے ژوب اور ڈیرہ اسماعیل خان کے راستے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا لیکن باز محمد کاکڑ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ مرکزی قیادت سے مشورے کے بعد سکھر جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے پاس وسائل کی کمی ہے وگرنہ ان کے قافلے میں ہزاروں لوگ شامل ہوتے۔ لاہور میں بی بی سی اردو کے نمائندہ عباد الحق کے مطابق اعتزاز احسن نے پیر کو انہوں نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کے لیے حکومت پنجاب سے کوئی رعایت یا امداد نہیں مانگی البتہ حکومت ان کو سیکیورٹی اور ججوں کو پروٹوکول دے گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے جج ابھی جج ہیں اس لیے انہیں پروٹوکول دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اعتزاز نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیا کہ لانگ مارچ میں شامل افراد لیاقت باغ راولپنڈی میں پڑاؤ ڈالیں گے۔ ان کے بقول ان کا پڑاؤ پارلیمنٹ سکوائر میں ہوگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ان کے پڑاؤ کی مدت کنتی ہوگی اس کا فیصلہ لانگ مارچ عملدرآمد کمیٹی کرے گی۔ اعتزاز احسن نے بتایا کہ لانگ مارچ کے سسلسلہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوددھری دس جون کو ہوائی جہاز کے ذریعے ملتان پہنچیں گے اور گیارہ جون کو ملتان سے وکلاء کے قافلوں کو الوادع کہیں گے۔ ان کے بقول جسٹس افتخارمحمد چودھری گیارہ جون کی شام کو ملتان سے لاہور آئیں گے جہاں وہ لاہور ہائی کورٹ بار، لاہور بار اور انکم ٹیکس بار کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے ۔انہوں نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے جج بھی ٹرین کے ذریعےگیارہ جون کو لاہور آ رہے ہیں۔ ایک دیگر سوال پر انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان اسلام آباد میں کیا جائےگا اور وکلاء عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔اعتزاز احسن نے اس امید کا اظہار کیا کہ عدلیہ کی بحالی کے لیے کیے جانے والا لانگ مارچ کامیاب ہوگا۔ | اسی بارے میں سابق سفیر لانگ مارچ کے حامی08 June, 2008 | پاکستان وکلاء لانگ مارچ، آغاز اب سکھر سے06 June, 2008 | پاکستان ملک بھر میں وکلاء کا عدالتی بائیکاٹ 08 May, 2008 | پاکستان فوجیوں پر مقدمہ چلائیں، فوجیوں کا مطالبہ04 June, 2008 | پاکستان مستعفی نہیں ہوں گا: پرویز مشرف 07 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||