اسلام آباد میں سخت سکیورٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وکلاء کے لانگ مارچ کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیئے ہیں۔ پیپلز پارٹی حکومت نے تاہم کہا ہے کہ وہ وکلاء کا اسلام آباد آمد پر خیر مقدم کرے گی اور ان کے قیام و طعام کا بندوبست بھی کرے گی۔ وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی حکومت مارچ کی مزاحمت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی اور دیگر انتظامات کے لیئے وہ وکیل رہنما اطہر من اللہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ حکام نے پیر کو شاہراہ دستور کو جس پر ایوان صدر سے لے کر پارلیمنٹ ہاؤس اور سپریم کورٹ جیسی انتہائی اہم عمارتیں واقع ہیں خار دار تاروں کے ذریعے سیل کر دیا تھا۔ آج پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر کنٹینر کھڑے کر کے راستہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ چھ کے قریب ٹرکوں پر لدے مزید کنٹینر بھی پارلیمنٹ لاجز کے سامنے کھڑے دیکھے گئے ہیں۔ جب ان میں سے ایک ٹرک کے ڈرائیور سے پوچھا گیا کہ کنٹینر کو کس جگہ پر رکھنا ہے تو انہوں نے بتایا کہ ابھی اس کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ اس انتہائی حساس سرکاری علاقے کی سکیورٹی کے لیئے تعینات سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے۔ پارلیمنٹ لاجز کے سامنے رینجرز نے نئی حفاظتی چوکیاں بھی قائم کر دی ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ، ایوان صدر اور وزیراعظم ہاؤس کی طرف جانے والے تمام راستوں کو عام ٹریفک کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کر دیا گیا ہے۔ صرف سرکاری گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ان مقامات پر اسلام آباد پولیس کی بکتر بند گاڑیاں بھی کھڑی کی گئی ہیں۔ رحمان ملک کا کنٹینروں کے بارے میں کہنا تھا کہ اس کا مقصد سرکاری تنصیبات کو کسی بھی طرح کے نقصان سے بچانا ہے۔ 'وہاں اہم سرکاری دفاتر ہیں، عدالتیں ہیں، پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد ہو رہا ہوگا جبکہ سفارتی علاقہ بھی اسی جانب ہے۔ ان سے آگے کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔' مشیر داخلہ کا کہنا ہے وکلاء کو مارچ زیرو پوائنٹ یا شکرپڑیاں تک محدود رکھنے کے لیئے کہا تھا لیکن وہ تیار نہیں ہوئے۔ وکلاء کے مطابق ان کا لانگ مارچ راولپنڈی سے فیض آباد، زیرو پوائنٹ، آبپارہ کے راستے ڈی چوک پہنچے گا جہاں وہ دھرنا دیں گے۔ مشیر داخلہ کے مطابق وکلا کی آمد پر اس علاقے میں واک تھرو گیٹس بھی نصب کیئے جائیں گے جن پر وکلا نمائندے بھی موجود ہوں گے جو ہر آنے والے کی شناخت پر انہیں اندر جانے دیں گے۔ اسلام آباد میں سکیورٹی کے لیئے کنٹینروں کا استعمال کم ہی دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ برس تین نومبر کو جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ہنگامی حالت کے نافذ کے بعد بھی قدرے اسی قسم کے حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ لیکن اس دفعہ بھی سڑکوں پر کنٹینر نہیں رکھے گئے تھے۔ | اسی بارے میں ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ09 June, 2008 | پاکستان وکلاء کا قافلہ، اگلی منزل بہاولپور10 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ09 June, 2008 | پاکستان ’مقامی دہشتگرد نیٹ ورک توڑ دیا‘10 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||