BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 June, 2008, 12:07 GMT 17:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مقامی دہشتگرد نیٹ ورک توڑ دیا‘

رحمان ملک
’دہشتگردوں سے تفتیش ابھی ابتدائی مراحل میں ہے‘
وزارتِ داخلہ کے حکام کے مطابق راولپنڈی سےگزشتہ دنوں گرفتار کیے جانے والا دہشتگرد گروہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ اور آبپارہ میں ہونے والے خودکش حملوں میں بھی ملوث تھا۔

وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک اور ایف آئی اے کے سربراہ طارق پرویز نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ہیڈکوارٹر میں صحافیوں کو بتایا کہ گرفتار کیے جانے والے افراد میں تین مبینہ خودکش حملہ آور اور ان کے تین ساتھی شامل ہیں جن میں سے پانچ کا تعلق صوبہ سرحد اور ایک کا راولپنڈی سے ہے۔

طارق پرویز کے مطابق تین مبینہ خودکش حملہ آوروں میں سے دو عابد خان اور محمد اسحاق کا تعلق ٹانک جبکہ قمر زمان کا ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے۔ ان کے تین ساتھیوں کی شناخت راولپنڈی کے انتخاب احمد عباسی، ایبٹ آباد کے محمد کبیر اور کوہاٹ کے ظفر علی کے طور پر کی گئی۔ ان کا ایک ساتھی تاہم ابھی فرار ہے۔

رحمان ملک نے اسے خودکش حملہ آوروں کا مقامی نیٹ ورک قرار دیا تاہم ان مبینہ حملہ آوروں کے اہداف کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔’عموما خودکش حملہ آور کو ہدف آخری وقت میں بتایا جاتا ہے۔ تاہم ان کا ہدف ہمیں معلوم ہے لیکن بعد میں بتائیں گے‘۔

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل طارق پرویز نے صحافیوں کو بتایا کہ تفتیش ابھی ابتدائی مراحل میں ہے لہذٰا حتمی بات وہ صرف تحقیقات مکمل ہونے پر ہی کر سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس گروہ کے طریقۂ کار اور ماضی میں ہونے والے خود کش حملوں میں کئی مطابقتیں ملی ہیں مثلاً اس میں استعمال ہونے والے بال بیرنگ کا حجم سرگودھا بس اور جی پی او لاہور کی طرح کا ہے جبکہ دھماکہ خیز مواد لاہور میں ایف آئی اے، ماڈل ٹاون، سرگودھا میں فضائیہ اور ڈنمارک سفارت خانے والے حملوں میں استعمال ہونے والے مواد سے ملتا جلتا ہے۔

صحافیوں کو ملزمان کے قبضے سے ملنے والی ایک ٹیوٹا کار اور دو لینڈ کروزر گاڑیاں بھی دکھائی گئیں جن میں مجموعی طور پر بارہ سو کلوگرام دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔ یہ مواد پریشر ککرز اور پلاسٹک ٹینکس میں بھرا گیا تھا۔

دھماکہ خیز مواد کی بوگاڑیوں سے کافی دور تک محسوس کی جا سکتی تھی اور صحافیوں کو ان گاڑیوں کے قریب موبائل فون استعمال کرنے یا سگریٹ پینے کی اجازت نہیں دی گئی۔گاڑیوں میں صوبہ سرحد میں استعمال ہونے والی روایتی چادر کے علاوہ مختلف شہروں کی نمبر پلیٹس بھی رکھیں تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد