سفارتخانوں کی منتقلی کی ہدایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کے روز ڈنمارک سفارتخانے کے باہر ہونے والے بم دہماکے کے بعد پاکستانی حکومت نے اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کو ہدایت کی ہے کہ وہ شہر کے رہائشی علاقوں میں واقع سفارتخانوں کو ڈپلومیٹک انکلیو میں منتقل کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ اس وقت اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں پندرہ سے زائد سفارتخانوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے دفاتر بھی موجود ہیں اور وہاں پر سکیورٹی کی ذمہ داری اسلام آباد پولیس کے سکیورٹی ڈویژن اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے پاس ہے۔ ان میں یورپی ممالک کے پانچ سفارتخانے ہیں۔ ان سفارتخانوں میں ڈنمارک کے علاوہ ناروے، سویڈن، اٹلی اور پرتگال شامل ہیں۔ ہالینڈ کا سفارتخانہ بھی اسلام آباد کے رہائشی علاقے میں موجود تھا تاہم ہالینڈ میں مسلمانوں کے بارے میں بننے والی متنازعہ فلم کے بعد یہ سفارتخانہ اسلام آباد کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں شفٹ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ جنوبی افریقہ، ملائشیا اور شمالی کوریا سمیت وسطی ایشیائی ریاستوں کے سفارتخانے بھی اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں واقع ہیں۔ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے چیئرمین کامران لاشاری کا کہنا ہے کہ ڈپلومیٹک انکلیو کو وسعت دینے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے اور اس منصوبے پر ترقیاتی کام آئندہ دو تین ماہ میں شروع ہوجائے گا۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے نے اس ضمن میں ڈپلومیٹک انکلیو کے قریبی علاقے میں زمین حاصل کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپلومیٹک انکلیو کے توسیعی منصوبے سے اسلام آباد کے رہائشی علاقوں میں واقع مختلف ممالک کے سفارتخانوں کے علاوہ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے اداروں کے دفاتر کو بھی ڈپلومیٹک انکلیو میں شفٹ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل دفتر خارجہ میں ان ممالک کے سفارت کاروں کو اس منصوبے کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی تھی۔ کامران لاشاری کا کہنا تھا کہ ڈپلومیٹک انکلیو کے توسیعی منصوبے میں مختلف ممالک کے سفارتخانوں اور اقوام متحدہ کے دفاتر کو اُن کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پلاٹ الاٹ کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پلاٹ پر تعمیراتی کام اُن سفارتخانوں کی ذمہ داری ہے جنہیں یہ پلاٹ الاٹ کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل سعودی سفارتخانہ جو پہلے اسلام آباد کے رہائشی علاقے میں تھا، ڈپلومیٹک انکلیو میں منتقل ہوا ہے اور اس کی نئی عمارت کا افتتاح وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کیا تھا۔ اسلام آباد کے مختلف رہائشی سیکٹروں میں واقع غیر ملکی سفارتحانوں کی وجہ سے وہاں کے مکینوں کو بھی اس حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان سفارتخانوں اور بلخصوص یورپی سفارتخانوں کی موجودگی میں ان علاقوں کے مکین ایک خوف کی سی کیفیت میں مبتلا ہیں۔ داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک کا کہنا ہے کہ کچھ سفارتخانے رہائشی علاقوں میں ہیں اور اگر وہاں پر سکیورٹی کے مزید اقدامات کیے جائیں تو وہاں کے مکینوں کو شکایت ہوتی ہے اس لیے حکومت کو اس حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں مقیم مختلف ممالک کے سفارتکاروں کے لیے ڈپلومیٹک پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے نام سے پولیس کی ایک علیحدہ فورس موجود ہے۔ تاہم اسلام آباد کے مختلف رہائشی سیکٹروں میں واقع سفارخانوں کے باہر ان پولیس اہلکاروں کے علاوہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ ادھر ڈنمارک کے سفارت خانے کے قریب بم دھماکے کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ نے حکام سے سفارت خانوں کی سکیورٹی بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ دھماکے کے بعد قریبی ناروے کا سفارت خانہ بند کر دیا گیا ہے۔ تاہم یہ ابھی واضع نہیں کہ یہ بندش کب تک ہوگی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے بتایا کہ ان کی وزارت نے سکیورٹی اداروں کو سفارت خانوں کی حفاظت سخت کرنے کا حکم دیا ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے اس واقع کی مذمت کی ہے۔ واقعہ کے بعد اسلام آباد میں سکیورٹی اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں محتاط رہیں، غیر ملکیوں کو ہدایت17 March, 2008 | پاکستان اسلام آباد دھماکہ: تُرک خاتون ہلاک15 March, 2008 | پاکستان غیرملکیوں کو احتیاط کی ہدایت27 November, 2007 | پاکستان پاکستان: خودکش حملوں کی تاریخ09 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||