BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 June, 2008, 11:30 GMT 16:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایمبیسی دھماکہ خودکش حملہ تھا‘

دھماکہ
مبینہ خودکش حملہ آور کی انگلیوں کے نشان شناخت کے لیے نادرا کو بھیج دیئے ہیں
وفاقی دارالحکومت میں ڈنمارک کے سفارت خانے کے قریب بم دھماکے کی تحقیقات کرنے والے اہلکاروں کا ابتدائی جائزے میں کہنا ہے کہ یہ خودکش حملہ ہی تھا۔

تفتیش کاروں نے مبینہ خودکش حملہ آور کی انگلیوں کے نشان شناخت کے لیے نادرا کو بھیج دیئے ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے مرزا محمد یٰسین نے بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں بتایا کہ واقعہ کی تین زاویوں سے تفتیش ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے چیسس اور انجن نمبر ملے ہیں جن سے تفتیش آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ گاڑی راولپنڈی میں رجسٹرڈ تھی اور اس سلسلے میں چند افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ہے تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

اعلٰی تفتیش کار مرزا محمد یٰسین نے پولیس اہلکاروں کے ہمراہ آج حملے کے مقام کا معائنہ کیا اور مزید شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ مرزا یٰسین کا کہنا تھا کہ وہ یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جس سفارتی نمبر پلیٹ کی مدد سے گاڑی ممنوع علاقے میں داخل ہوئی وہ کس کی تھی۔

مرزا محمد یٰسین نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے انہیں مبینہ حملہ آور کی انگلیاں ملی ہیں جن کے نشانات انہوں نے نادرا کو شناخت کے لیے روانہ کر دیے ہیں۔ ’ہم امید کر رہے ہیں کہ اس سے حملہ آور کی شناخت ہوسکے گی۔‘

اس کے علاوہ تحقیقاتی ٹیم اس حملے میں استعمال ہونے والے بارود اور طریقہ واردات سے بھی اس میں ملوث افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’ہم اب دیکھ رہے ہیں کہ اور کون کون سے گروپس یہ طریقہ کار یا اس قسم کا بارود استعمال میں لاتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ کون سا گروپ کیا استعمال کرتا ہے اور اس کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔‘

 ہم اب دیکھ رہے ہیں کہ اور کون کون سے گروپس یہ طریقہ کار یا اس قسم کا بارود استعمال میں لاتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ کون سا گروپ کیا استعمال کرتا ہے اور اس کا موازنہ کیا جا رہا ہے۔
تحقیقی ٹیم

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے کسی ویڈیو فلم کی موجودگی سے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی سکیورٹی کیمرہ نصب نہیں تھا۔

ایف آئی اے کے اہلکار آج دو پہر تک جائے وقوعہ کا دوبارہ جائزہ لیتے رہے تاکہ کل رہ جانے والے شواہد اکٹھے کرسکیں۔ اس علاقے کو پولیس نے شامیانوں کی مدد سے بند کر رکھا ہے اور کسی کو شناخت کے بغیر اندر جانے نہیں دیا جا رہا۔ دو چار غیرملکی صحافی بھی رپورٹنگ میں مصروف نظر آئے۔

ایف آئی اے کے محمد اشرف نے بتایا کہ اردگرد کے مکانات اور چھتوں کا آج انہوں نے دوبارہ تفصیلی معائنہ کیا ہے۔ گاڑی کے انجن اور دیگر حصوں کی طرح ایک شخص کے جسم کے ٹکڑے بھی آس پاس کے مکانات سے ملے ہیں۔ تاہم اس مرتبہ مبینہ خودکش حملہ آور کا سر نہیں ملا۔

ادھر اس حملے سے ڈنمارک کے سفارت خانے کے علاوہ اس کے سامنے ایک غیرسرکاری تنظیم کے دفاتر کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ ڈیولیوشن ٹرسٹ فار کمیونٹی امپاورمنٹ نامی اس تنظیم کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ظفر حیات ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ابھی نقصانات کا باقاعدہ جائزہ نہیں لیا ہے تاہم تقریباً تمام دفتر ہی تباہ ہوا ہے۔ ’تمام آلات و فرنیچر تباہ ہوگئے ہیں اور اب اس دفتر میں کام نہیں ہوسکتا۔‘

دفتر کے احاطے میں کھڑی چھبیس گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ دفتر کے دو ملازمین دھماکے سے ہلاک ہوئے جبکہ اکثر عملہ دوپہر کے کھانے کے وقفے کی وجہ سے محفوظ رہا ورنہ جانی نقصان کئی گنا زیادہ ہونے کا خطرہ تھا۔

ظفر حیات نے بتایا کہ وہ اس دفتر کو اب یہاں سے کسی اور جگہ منتقل کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ’شاید دفتر کی مرمت ہو جائے لیکن ذہن پر سے اس کے اثرات نہیں ہٹائے جاسکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حفاظتی انتظامات ان کے مطابق کافی تھے لہٰذا انہیں ماضی میں کبھی خطرہ محسوس نہیں ہوا تھا۔

 میرے مکان کی ایلومینیئم کی تمام کھڑکیاں اور دروازے تباہ ہوچکے ہیں اور ان کا واحد حل ان کی تبدیلی ہے۔ اس پر تقریباً دو لاکھ روپے خرچہ آسکتا ہے۔
رہائشی

دھماکے سے اردگرد کے تقریبا تیس مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا۔ اسی مقام سے کوئی سو میٹر کی دوری پر ایک مکان کے مالک جہانگیر خان اسلام آباد انتظامیہ کی تلاش میں نظر آئے تاکہ انہیں اپنے نقصانات سے آگاہ کر سکیں اور حکومت سے معاوضہ حاصل کر سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے مکان کی ایلومینیئم کی تمام کھڑکیاں اور دروازے تباہ ہوچکے ہیں اور ان کا واحد حل ان کی تبدیلی ہے۔ ان کے مطابق اس پر تقریباً دو لاکھ روپے خرچہ آسکتا ہے۔

حکومت نے ماضی کے برعکس اس حملے کے تانے بانے قبائلی علاقوں سے جوڑنے سے فی الحال انکار کیا ہے۔ دھماکے کے حوالے سے چند مقامی افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاہم آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

حکام نے اس حملے کو ابتدائی طور پر مغربی ممالک میں شائع ہونے والے متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت اور ایک فلم کی تیاری پر ممکنہ ردعمل قرار دیا تھا۔ تاہم مبصرین کے خیال میں اس معاملے پر عوامی احتجاج گزشتہ دنوں میں اتنا زیادہ پرجوش نہیں تھا کہ اسے اس قسم کے واقعے کی وجہ قرار دیا جا سکے۔

یاد رہے کہ سنہ دو ہزار چھ میں پیغمبرِ اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت پر پاکستان میں ملک گیر احتجاج کی وجہ سے ڈنمارک کا سفارت خانہ عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ دھمکیوں کے باوجود سفارت خانہ کام کر رہا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد