BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 June, 2008, 07:23 GMT 12:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایمبیسی دھماکہ، تحقیقات شروع

جائے واقعہ پر پولیس
دھماکے کی جگہ کے قریب ہی اقوام متحدہ کا دفتر بھی ہے جسے کافی نقصان پہنچا
وفاقی دارالحکومت میں ڈنمارک کے سفارت خانے کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔

اسلام آباد کے ایف سکس سیکٹر میں پیر کی دوپہر ڈنمارک کے سفارت خانے کے قریب ایک کار بم دھماکہ ہوا تھا جس سے چھ افراد ہلاک جبکہ پچیس زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے سے ایک غیرسرکاری تنظیم کے دفاتر کو بھی کافی نقصان پہنچا تھا۔

دھماکے کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی سات رکنی خصوصی ٹیم میں اسلام آباد انتظامیہ کے اعلی اہلکار کے علاوہ ایس ایس پی سکیورٹی، ایس پی، سی آئی ڈی اور خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار شامل ہیں۔ توقع ہے کہ یہ ٹیم آئندہ چوبیس گھنٹوں میں اپنی ابتدائی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کرے گی۔

پولیس حکام کے مطابق جائے وقوع سے ملنے والے شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ دھماکے میں استعمال ہونے والا مواد بھی لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ تاہم تفتیش کاروں کے لیے اب تک بظاہر سب سے بڑا مسئلہ اس بات کا تعین ہے کہ آیا یہ خودکش حملہ تھا ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا۔ تحقیقاتی اداروں کو حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کا صرف انجن ہی ملا ہے۔

اسلام آباد میں پولیس حکام کے اجلاس میں اب تک کی تحقیقات کا جائزہ لینے کے علاوہ سفارت خانوں کی سیکورٹی مزید بڑھانے پر غور ہو رہا ہے جبکہ وزارت داخلہ میں پیر کو ہونے والے اہم اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تحقیقات کی نگرانی مشیر داخلہ رحمان ملک خود کریں گے۔

حکومت نے ماضی کے برعکس اس حملے کے تانے بانے قبائلی علاقوں سے جوڑنے سے فی الحال انکار کیا ہے۔ دھماکے کے حوالے سے چند مقامی افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاہم آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

حکام نے اس حملے کو ابتدائی طور پر مغربی ممالک میں شائع ہونے والے متنازعہ کارٹونوں کی اشاعت اور ایک فلم کی تیاری پر ممکنہ ردعمل قرار دیا تھا۔ تاہم مبصرین کے خیال میں اس معاملے پر عوامی احتجاج گزشتہ دنوں میں اتنا زیادہ پرجوش نہیں تھا کہ اسے اس قسم کے واقعے کی وجہ قرار دیا جا سکے۔

یاد رہے کہ سنہ دو ہزار چھ میں پیغمبرِ اسلام کے کارٹونوں کی اشاعت پر پاکستان میں ملک گیر احتجاج کی وجہ سے ڈنمارک کا سفارت خانہ عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ دھمکیوں کے باوجود سفارت خانہ کام کر رہا تھا۔

دھماکہدھواں اور چیخیں
’دھماکے سے شیشے ٹوٹ کر ہمارے اوپر آ گرے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد