BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 March, 2008, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسلام آباد دھماکہ، انتقامی ردِ عمل‘

 (فائل فوٹو)
باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ کچھ سالوں سے امن و امان کی صورتحال انتہائی کشیدہ بتائی جاتی ہے
پاکستان میں مقامی طالبان کی تنظیم نے قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے امن مذاکرات کی پیش کش کا خیرمقدم کیا ہے۔ تنظیم نے گزشتہ رات اسلام آباد میں غیر ملکی ریسٹورنٹ پر ہونے حملے کی ذمہ داری براہ راست تو قبول نہیں کی البتہ دھماکے کو قبائلی علاقوں میں عام شہریوں کی حالیہ ہلاکت کا ردعمل قرار دیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے اتوار کو کسی نامعلوم سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ سرحد میں عوامی نشینل پارٹی کے نامزد وزیراعلی حیدر خان ہوتی نے نامزدگی کے فوری بعد طالبان کو امن بات چیت کی جو پیش کش کی تھی ، تحریک اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے این پی ایک محب وطن جماعت ہے اور اس نے سرحد میں اکثریت بھی حاصل کی ہے لہذا طالبان بھی ان سے علاقے میں امن کی خاطر ہر قسم کے امن مذاکرات کےلیے تیار ہیں۔

ان کے مطابق ’طالبان امن پسند لوگ ہیں اور امن پر یقین رکھتے ہیں، ہم بھی اسی سرزمین اور مٹی کے پیداوار ہیں لہذا امن کی جو پیش کش کی گئی ہے اس کےلیے ہم ہر لحاظ سے تیار ہیں۔’

ترجمان نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں تمام مسائل جرگہ کے ذریعے سے طے کرائے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں جو بھی امن بات چیت ہوگی وہ بھی حکومتی اہلکاروں کے پاس اپنے نمائندے بھجیں گے اور امن کےلیے ہر قسم کا تعاون کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کے اے این پی کے نامزد وزیراعلی حیدر خان ہوتی نے نامزدگی کے بعد بی بی سی سے انٹرویو میں طالبان کو ایک قوت قرار دیا تھا۔ انہوں نے اپنے متعداد انٹرویوز اور اخباری بیانات میں قبائلی علاقوں اور سرحد میں جاری کشیدگی کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کے میز پر حل کرنے زور دیا تھا۔

طالبان ترجمان نے سنیچر کی رات اسلام آباد میں ایک غیر ملکی ریسٹورنٹ پر ہونے بم حملے کے ذمہ داری براہ راست طورپر قبول نہیں کی تاہم انہوں نے کہا کہ یہ دھماکہ قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں معصوم شہریوں کی حالیہ ہلاکتوں کا ردعمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس دنوں کے دوران مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان کے پانچ جنگجوؤں کو سکیورٹی فورسز نے بلاوجہ قتل کیا اور اس کے بعد باجوڑ ایجنسی میں بھی بارہ شہریوں کو مارا گیا جب کہ وزیرستان میں بھی سکیورٹی فورسز معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے ۔ ترجمان کے مطابق ’قبائلی عوام درختوں اور پھتروں سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ وہ بھی انسان ہیں، قبائلی علاقوں میں حکومت کی طرف سے جو بلاجواز کارروائیاں کی جاتی ہیں ان کا انتقام لیا جاتا ہے اور اسلام آباد کا دھماکہ بھی انتقامی کارروائی ہے‘۔

انہوں نے ایک بار پھر حکومت کو خبردار کیا کہ قبائلی علاقوں میں ’ظلم ’ بند کیا جائے ورنہ اس قسم کی کارروائیوں میں مزید اضافہ ہوگا‘۔

باجوڑ باجوڑ: دس روز بعد
بمباری کے بعد عنایت کلی سے چند تصاویر
باجوڑ کے زخمی’سالمیت پر حملہ‘
باجوڑ حملہ ملکی سالمیت پر حملہ ہے: ماہرین
باجوڑ سے براہ راست
باجوڑ پر بمباری: آدھا سچ، آدھا جھوٹ
بات سیدھی ہے نہیں
درگئی، باجوڑ کو جوڑنا عجلت میں کیا اعتراف؟
مولانا فقیر’مشرف کی پالیسی‘
طالبان خود کش حملے کرنے پر مجبور: مولانا فقیر
باجوڑ (فائل فوٹو)جاسوسوں کے بعد
باجوڑ دو اہلکاروں کو گلے کاٹ کر ہلاک کیا گیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد