اسلام آباد دھماکہ، سینکڑوں گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد پولیس نے سنیچر کے روز سپر مارکیٹ کے قریب اطالوی ریستوراں میں بم دھماکہ کے بعد شہر میں بڑے پیمانے پرگرفتاریاں کی ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کلیم امام نے بی بی سی کو بتایا کہ مدرسوں کے طلبا سمیت دو سو بتیس افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ دھماکے میں امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والی ایک ترک خاتون ہلاک اور کم از کم پندرہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔اطلاعات کے مطابق امریکی سفارت خانے کے زخمی افراد کو مقامی ہسپتالوں سے نکال کر امریکی سفارت خانے میں لے جایا گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیس شروع کر دی ہے۔ایس ایس پی کلیم امام کی سربراہی میں قائم کی جانے والی تحقیقاتی ٹیم میں سپیشل برانچ اور ایف آئی اے کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکی سفارت خانے میں تعینات سکیورٹی اہلکاروں نےبھی جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور وہاں سے شواہد اکھٹے کیے۔ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کلیم امام نے تردید کی کہ امریکی اہلکار دھماکے کی تحقیق کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں دھماکے کی تحقیقات کرنے کے مجاز صرف پاکستان پولیس ہی ہے۔ پولیس نے دھماکہ کے بعد شروع کیے جانے والے آپریشن میں مقامی مدرسوں کے طلباء کے علاوہ اسلام آباد کے مضافات میں قائم افغان کچی بستیوں اور شہر کے کچھ ’آوارہ‘ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انسداد دہشتگردی کےماہرین اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ریستوارں میں ہونے والا بم دھماکہ خود کش حملہ نہیں تھا اور نہ ہی کوئی دھماکہ خیز مواد باہر سے پھینکا گیا تھا۔ ماہرین کے خیال میں دھماکہ خیز مواد ریستواران کے اندر پلانٹ کیا گیا تھا۔ پولیس نے ہوٹل میں کام کرنے والے ملازمین کے بیانات ریکارڈ ہیں اور ہوٹل میں صبح سے شام تک آنے والے لوگوں کا ریکارڈ چیک کیا ہے۔ دھماکے میں ہلاک ہونے والی خاتون ترک تھیں اور اس کا نام باسکر ہے اور ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ امریکی سفارتخانے میں نرس تھیں تاہم کچھ ذرائع کہتے ہیں کہ وہ امدادی کارکن تھیں۔ سرکاری طور پر اس دھماکے میں گیارہ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے ان میں پانچ امریکی ایک برطانوی سفارتکار، ایک کینڈین ، ایک جاپانی اور تین پاکستانی شامل ہیں۔ سیکٹر ایف سکس مرکز میں قائم اطالوی ریستوراں لوناکیپریز اسلام آباد میں مقیم غیر ملکی باشندوں میں مقبول تھا۔ واضح رہے کہ سنہ دو ہزار دو کے بعد یہ دوسرا حملہ ہے جس میں غیر ملکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سنہ دو ہزار دو میں ڈپلومیٹک انکلیو میں ایک چرچ پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں دو امریکی سفارتکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ نےجائے حادثہ کا دورہ کیا اور وہاں پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ یہ حملہ خودکش نہیں تھا۔ |
اسی بارے میں اسلام آباد: گرجا پر گرنیڈ حملہ26.03.2002 | صفحۂ اول سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو ہلاک27 December, 2007 | پاکستان اسلام آباد دھماکہ: ایک اور ہلاک28 July, 2007 | پاکستان اسلام آباد دھماکہ: ایک اور ہلاک27 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||